ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 121 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 121

آگیا۔قریب تھا کہ جہاز غرق ہو جاتا۔اس کی دعا سے بچا لیا گیا اور دعا کے وقت اس کو الہام ہوا کہ تیری خا طر ہم نے سب کو بچا لیا۔مگر یہ باتیں نرا زبانی جمع خرچ کرنے سے حا صل نہیں ہوتیں۔دیکھو! ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک وعدہ دیا ہے۔اِنِّیْٓ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ مگر دیکھو ان میں غافل عورتیں بھی ہیں۔مختلف طبائع اور حالات کے انسان ہیں خدا نخواستہ اگر ان میں سے کوئی طاعون سے مَر جاوے یا جیسا کہ بعض آدمی ہماری جماعت میں سے طاعون سے فوت ہو گئے ہیں تو ان دشمنوں کو ایک اعتراض کا موقع ہاتھ آگیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْۤا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الانعام: ۸۳) بہر حال جماعت کے افراد کی کمزوری یا بُرے نمونہ کا اثر ہم پر پڑتا ہے اور لوگوں کو خواہ مخواہ اعتراض کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔پس اس واسطے ہماری طرف سے تو یہی نصیحت ہے کہ اپنے آپ کو عمدہ اور نیک نمونہ بنانے کی کو شش میں لگے رہو۔جب تک فرشتوں کی سی زندگی نہ بن جاوے تب تک کیسے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی پاک ہو گیا۔يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ(التحریم :۸) فنا فی اللہ ہو جانا اور اپنے سب ارادوں اور خواہشات کو چھوڑ کر محض اللہ کے ارادوں اور احکام کا پابند ہو جانا چاہیے کہ اپنے واسطے بھی اور اپنی اولاد، بیوی بچوں، خویش واقارب اور ہمارے واسطے بھی باعثِ رحمت بن جاؤ۔مخالفوں کے واسطے اعتراض کا موقع ہرگز ہرگز نہ دینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ وَ مِنْهُمْ مُّقْتَصِدٌ١ۚ وَ مِنْهُمْ سَابِقٌۢ بِالْخَيْرٰتِ ( فاطر :۳۳) پہلی دونوں صفات ادنیٰ ہیں۔سابق بالخیرات بننا چاہیے۔ایک ہی مقام پر ٹھہر جانا کوئی اچھی صفت نہیں ہے۔دیکھو ٹھہر ا ہوا پانی آخر گندہ ہو جاتا ہے۔کیچڑ کی صحبت کی وجہ سے بدبُودار بد مزا ہو جاتا ہے۔چلتا پانی ہمیشہ عمدہ ستھرا اور مزیدار ہو تا ہے اگرچہ اس میں بھی نیچے کیچڑ ہو مگر کیچڑ اس پر کچھ اثر نہیں کر سکتا۔یہی حال انسان کا ہے کہ ایک ہی مقام پر ٹھہر نہیں جانا چاہیے۔یہ حالت خطرناک ہے۔ہر وقت قدم آگے ہی رکھنا چاہیے نیکی میں ترقی کرنی چاہیے ورنہ خدا انسان کی مدد نہیں کرتا اور اس طرح سے انسان بے نور ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ آخر کار بعض اوقات ارتداد ہو جاتا ہے۔اس طرح