ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 109

بلا تا ریخ۱ امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہیں رکھنا چاہیے ایک مخلص بھائی نے اپنا قصہ سنایا کہ ایک نواب ریاست نے جو شیعہ ہے اُن سے آپ کے بارے میں چند سوال کئے او ر ان کے میں نے یہ جواب دئیے مرزا صاحب کا آل نبی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے۔ہم سنتے ہیں کہ وہ ان کی توہین کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ایک شعر ہے۔؎ جان و دلم فدائے جمالِ محمدؐ است خاکم نثار کوچہءِ آلِ محمدؐ است دوم یہ کہ یزید کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے انہوں نے یہ شعر پڑھا۔؎ ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو افواجِ یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین جب اس طرح کوئی اعتراض کا موقع نہ پایا تو پوچھا کہ تم ان کے نہ ماننے والوں کو کیا سمجھتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ جو مہدی موعود کے مخالفین کو سمجھنا چاہیے اور جو کچھ اہل سنّت وشیعہ سمجھتے ہیں۔پوچھا کہ رسالت کے مدعی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے۔؎ من نیستم رسول و نیاوردہ اَم کتاب ہاں ملہم استم و ز خداوند منذرَم اس پر دوسرے روز فرمایا کہ اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحبِ کتاب ہو۔دیکھو! ۱یہ ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے اور اسی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ’’ایک غلطی کا ازالہ ‘‘لکھا تھا۔(مرتّب)