ملفوظات (جلد 10) — Page 109
ملفوظات حضرت مسیح موعود بلا تاریخ ۱۰۹ ایک مخلص بھائی نے امر حق کے پہنچانے میں کسی قسم کا اخفا نہیں رکھنا چاہیے اپنا قصہ سنا سنایا کہ ایک جلد دہم نواب ریاست نے جو شیعہ ہے اُن سے آپ کے بارے میں چند سوال کئے اور ان کے میں نے یہ جواب دیئے مرزا صاحب کا آل نبی کے بارے میں کیا عقیدہ ہے ۔ ہم سنتے ہیں کہ وہ ان کی توہین کرتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ ان کا ایک شعر ہے۔ جان و دلم فدائے جمال محمد است خاکم شمار کوچه آل محمد است دوم یہ کہ یزید کے بارے میں ان کی کیا رائے ہے انہوں نے یہ شعر پڑھا۔ ہر طرف کفر است جو شاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہمچو زین العابدین جب اس طرح کوئی اعتراض کا موقع نہ پایا تو پوچھا کہ تم ان کے نہ ماننے والوں کو کیا سمجھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ جو مہدی موعود کے مخالفین کو سمجھنا چاہیے اور جو کچھ اہل سنت و شیعہ سمجھتے ہیں ۔ پوچھا کہ رسالت کے مدعی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ان کا ایک شعر ہے۔ اس پر دوسرے روز فرمایا کہ من نیستم رسول و نیاورده ام کتاب ہاں ملہم استم و از خداوند منذرم اس کی تشریح کر دینا تھا کہ ایسا رسول ہونے سے انکار کیا گیا ہے جو صاحب کتاب ہو ۔ دیکھو! لے یہ ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے اور اس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک غلطی کا ازالہ “ لکھا تھا۔ (مرتب)