ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 110 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 110

جو امور سماوی ہوتے ہیں ان کے بیان کرنے میں ڈرنا نہیں چاہیے اور کسی قسم کا خوف کرنا اہلِ حق کا قاعدہ نہیں۔صحابہ کرام کے طرز عمل پر نظر کرو۔وہ بادشاہوں کے درباروں میں گئے اور جو کچھ ان کا عقیدہ تھا وہ صاف صا ف کہہ دیا۔اور حق کہنے سے ذرا نہیں جھجکے جبھی تو لَا يَخَافُوْنَ لَوْمَةَ لَآىِٕمٍ(المآئدۃ :۵۵ ) کے مصداق ہوئے۔مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ نبوت ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم رسول اور نبی ہیں۔اصل یہ نزاع لفظی ہے۔خدا تعالیٰ جس کے سا تھ ایسا مکالمہ مخاطبہ کرے کہ جو بلحاظ کمیت و کیفیت دوسروں سے بہت بڑھ کر ہو اور اس میں پیشگوئیاں بھی کثرت سے ہوں اسے نبی کہتے ہیں اور یہ تعریف ہم پر صادق آتی ہے پس ہم نبی ہیں۔ہاں یہ نبوت تشریعی نہیں جو کتاب اللہ کو منسوخ کرے اور نئی کتاب لائے۔ایسے دعوے کو تو ہم کفر سمجھتے ہیں۔بنی اسرائیل میں کئی ایسے نبی ہوئے ہیں جن پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی۔صرف خد ا کی طرف سے پیشگوئیاں کرتے تھے جن سے موسوی دین کی شوکت وصداقت کا اظہار ہو۔پس وہ نبی کہلائے۔یہی حال اس سلسلہ میں ہے۔بھلا اگر ہم نبی نہ کہلائیں تو اس کے لیے اور کونسا امتیازی لفظ ہے جو دوسرے ملہموں سے ممتاز کرے۔دیکھو! اور لوگوں کو بھی بعض اوقات سچے خواب آجاتے ہیں بلکہ بعض دفعہ کوئی کلمہ بھی زبان پر جاری ہو جاتا ہے جو سچ نکل آتا ہے۔یہ اس لیے تا اُن پر حجت پوری ہو اور وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم کو یہ حواس نہ دئیے گئے پس ہم سمجھ نہیں سکتے کہ یہ کس بات کا دعویٰ کرتے ہیں؟ آپ کو سمجھانا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ کس قسم کی نبوت کے مدعی ہیں۔ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ جس دین میں نبوت کا سلسلہ نہ ہو وہ مردہ ہے۔یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں کے دین کو جو ہم مردہ کہتے ہیں تو اسی لیے کہ اُن میں اب کوئی نبی نہیں ہوتا۔اگر اسلام کا بھی یہی حال ہوتا تو پھر ہم بھی قصہ گو ٹھہرے۔کس لیے اس کو دوسرے دینوں سے بڑھ کر کہتے ہیں؟ آخر کوئی امتیاز بھی ہونا چاہیے۔صرف سچے خوابوں کا آنا تو کافی نہیں کہ یہ تو چوہڑے چماروں کو