ملفوظات (جلد 10) — Page 107
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳ فروری ۱۹۰۸ء جلد دہم خدا کے مامور پر ایمان لانے کے ساتھ مومن پر ابتلا نہ آنا سنت اللہ کے خلاف ہے ابتلا ضروری ہے۔ خدا تعالٰی فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنکبوت : (۳) کیا لوگوں نے سمجھا کہ چھوڑے جائیں گے یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے اور آزمائے نہ جائیں گے؟ گویا ایمان کی شرط ہے آزمایا جانا ۔ صحابہ کرام کیسے آزمائے گئے ؟ ان کی قوم نے طرح طرح کے عذاب دیئے اُن کے اموال پر بھی ابتلا آئے ۔ جانوں پر بھی ، خویش و اقارب پر بھی ، اگر ایمان لانے کے بعد آسائش کی زندگی آجاوے تو اندیشہ کرنا چاہیے کہ میرا ایمان صحیح نہیں کیونکہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے کہ مومن پر ابتلا نہ آئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ جب اپنی رسالت پر ایمان لائے تو اسی وقت سے مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ عزیزوں سے جدا ہوئے ۔ میل ملاپ ملاپ بند کیا گیا۔ ملک سے نکالے گئے ۔ دشمنوں نے زہر تک دے دیا۔ تلواروں کے سامنے زخم کھائے ۔ اخیر عمر تک یہی حال رہا۔ پس جب ہمارے مقتدا و پیشوا کے ساتھ ایسا ہوا تو پھر اس پر ایمان لانے والے کون ہیں جو بچے رہیں؟ ایسے ابتلا جب آویں تو مردانہ طریق سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔ ا ابتلا اسی واسطے آتے ہیں کہ صادق جدا ہو جائے اور کاذب جدا۔ خدا رحیم ہے مگر وہ غنی اور بے نیاز بھی ہے جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے ساتھ مدد نہ دے۔ تو خدا کی مدد بھی منقطع ہو جاتی ہے۔ بعض آدمی صرف اتنی سی بات سے دہر یہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا لڑکا مر گیا یا بیوی مر گئی یا رزق کی تنگی ہو گئی حالانکہ یہ ایک ابتلا تھا جس میں پورا نکلتے تو انہیں اس سے بڑھ کر دیا جاتا اور رزق کی تنگی سے پراگندہ دل ہونا مومن کا کام متقی کا شیوہ نہیں یہ جو ع پراگنده روزی پراگنده دل