ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 107 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 107

۳؍فروری ۱۹۰۸ء مومن پر ابتلا نہ آنا سنّت اللہ کے خلاف ہے خدا کے مامور پر ایمان لانے کے ساتھ ابتلا ضروری ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ يُّتْرَكُوْۤا اَنْ يَّقُوْلُوْۤا اٰمَنَّا وَ هُمْ لَا يُفْتَنُوْنَ(العنکبوت :۳) کیا لوگوں نے سمجھا کہ چھوڑے جائیں گے یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لائے اور آزمائے نہ جائیں گے؟ گویا ایمان کی شرط ہے آزمایا جانا۔صحابہ کرام کیسے آزمائے گئے؟ ان کی قوم نے طرح طرح کے عذاب دئیے اُن کے اموال پر بھی ابتلا آئے۔جانوں پر بھی، خویش واقارب پر بھی، اگر ایمان لانے کے بعد آسائش کی زندگی آجا وے تو اندیشہ کرنا چاہیے کہ میرا ایمان صحیح نہیں کیونکہ یہ سنّت اللہ کے خلاف ہے کہ مومن پر ابتلا نہ آئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتا۔وہ جب اپنی رسالت پر ایمان لائے تو اسی وقت سے مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔عزیزوں سے جدا ہوئے۔میل ملاپ بند کیا گیا۔ملک سے نکالے گئے۔دشمنوں نے زہر تک دے دیا۔تلواروں کے سامنے زخم کھائے۔اخیر عمر تک یہی حا ل رہا۔پس جب ہمارے مقتدا وپیشوا کے ساتھ ایسا ہوا تو پھر اس پر ایمان لانے والے کو ن ہیں جو بچے رہیں؟ ایسے ابتلا جب آویں تو مردانہ طریق سے ان کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ابتلا اسی واسطے آتے ہیں کہ صادق جُدا ہو جائے اور کاذب جُدا۔خد ا رحیم ہے مگر وہ غنی اور بےنیاز بھی ہے جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے سا تھ مدد نہ دے۔تو خدا کی مد د بھی منقطع ہو جاتی ہے۔بعض آدمی صرف اتنی سی بات سے دہر یہ ہو جاتے ہیں کہ ان کا لڑکا مَر گیا یا بیوی مَر گئی یا رزق کی تنگی ہو گئی حالانکہ یہ ایک ابتلا تھا جس میں پورا نکلتے تو انہیں اس سے بڑھ کر دیا جاتا اور رزق کی تنگی سے پرا گندہ دل ہونا مومن کا کام متقی کا شیوہ نہیں یہ جو ع پراگندہ روزی پراگندہ دل