ملفوظات (جلد 10)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 105 of 470

ملفوظات (جلد 10) — Page 105

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۵ جلد دہم آخری زمانہ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی ہولناک واقعہ پیش آتا تو فرماتے کہ قیامت آگئی۔ ایک شخص کا سوال پیش ہوا نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رعب ڈال دے کر حضور کا الہام تھا۔ ستائیں کہ حضور کو خوشیاں منائیں گے۔ سو ۲۷ ماہ پوہ کو بارش ہو گئی اور لوگوں نے خوشیاں منائیں ۔ فرمایا۔ یہ تکلفات ہیں جو ہم نہیں چاہتے ۔ خدا کا وہ نشان ہوتا ہے جو دل بول اُٹھیں بلکہ دشمن بھی کہہ دیں کہ یہ بات ہوگئی گو دشمن کا اقرار زبان سے محال ہے مگر تا ہم نشان وہ ہوتا ہے جو اپنی عظمت سے رعب ڈال دے۔ فرمایا۔ جو خط آتا ہے پڑھ کر وقت ہاتھ سے دعا کی دو قسمیں جب تک دعانہ کرلوں کہ شاید موقع نہ ملے یا یاد نہ ہے۔ مگر دعا و قسم ہے فرمایا۔ جو خط آتا ہے میں اُسے پڑھ کر اس وقت تک ہاتھ سے نہیں دیتا جو اس کو چہ میں داخل ہو وے وہی خوب سمجھتا ہے۔ ایک معمولی ۔ ایک شدت توجہ سے ۔ اور یہ آخری صورت ہر دعا میں میسر نہیں آتی ۔ سوز اور قلق کا پیدا ہونا اپنے اختیار میں نہیں ۔ کوئی مخلص ہو تو اس کے لئے خود ہی دعا کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یوں تو ہر ایک شخص جو ہماری جماعت میں داخل ہے اس کے لئے ہم دعا کرتے ہیں ۔ مگر مذکورہ بالا حالت ہر ایک کے لیے میسر نہیں آتی ۔ یہ اختیاری بات نہیں پس جسے جوش دلانا ہو وہ زیادہ قرب حاصل کرے۔ مکر کے معنے فرمایا ۔ جب انسان مکر کرتا ہے تو اس کے ساتھ خدا بھی مکر کرتا ہے۔ مکر کا مقابلہ مکر کرے جب ہی بات بنتی ہے۔ نادان مکر کے لفظ پر اعتراض کرتے ہیں ۔ یہ زبان کی ناواقفیت کی وجہ سے ہے اس میں کوئی بری بات نہیں۔ مگر اس بار یک تدبیر کو کہتے ہیں جو خبیث آدمی کے دفع کے لئے کی جائے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اپنا نام خَيْرُ الْمُكِرِينَ (آل عمران:۵۵) رکھا ۔ حقیقی دعا دعا و قسم ہے۔ ایک تو معمولی طور ہے ۔ دوم دعا دو قسم ہے۔ ایک تو معمولی طور سے ۔ دوم وہ جب انسان اُسے انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔ پس یہی دعا حقیقی معنوں میں دعا کہلاتی ہے۔ انسان کو چاہیے کہ کسی مشکل پڑنے کے بغیر بھی دعا کرتا رہے۔ کیونکہ اسے کیا معلوم کہ خدا کے