ملفوظات (جلد 10) — Page 98
اور پھر کچھ شربت و چاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں۔اس کے متعلق اما م الائمہ حجۃ اللہ خلیفۃ اللہ علی الارض کا فتویٰ نقل کر دیا جا تا ہے کہ کم از کم ہمارے احمدی بھائی ہی اس سے الگ رہیں۔نیا ز مند اکمل نے سوال کیا کہ محرّم کی دسویں کو جو شربت وچاول وغیرہ تقسیم کرتے ہیں اگر یہ للہ بہ نیت ایصال ثواب ہو تو اس کے متعلق حضور کا کیا ارشاد ہے ( اماموں کے نام پر دینا تو حسب آیت وَ مَاۤ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْرِ اللّٰهِ(البقرۃ : ۱۷۴) حرام ہے) فرمایا۔ایسے کاموں کے لئے دن اور وقت مقرر کر دینا ایک رسم وبدعت ہے اور آہستہ آہستہ ایسی رسمیں شرک کی طرف لے جاتی ہیں۔پس اس سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ ایسی رسموں کا انجام اچھا نہیں۔ابتدا میں اسی خیال سے ہو مگر اب تو اس نے شرک اور غیر اللہ کے نام کا رنگ اختیار کر لیا ہے اس لئے ہم اسے ناجائز قرار دیتے ہیں۔جب تک ایسی رسوم کا قلع قمع نہ ہو عقائد باطلہ دور نہیں ہوتے۔۱ بلا تاریخ خواب تعبیر طلب ہوتی ہے کسی نے اپنا خواب بیان کیا کہ مجھے بتایا گیا ہے کہ گجرات میں انجیر ہو تی ہے اس کا شربت بنوا کر پیو۔فرمایا۔خواب تعبیر طلب بھی ہوتی ہے۔انجیر گرمی سے بچاتی ہے۔قرآن شریف میں بھی ’’تِیْن‘‘ کا ذکر ہے مگر وہاں اور اشارات ہیں۔اس سے ثبوت نبوت دیا گیا ہے۔طبابت ظنی علم ہے علم طبابت ظنی ہے کسی کو کوئی دوا پسند کسی کو کوئی۔ایک دوا ایک شخص کے لیے مضر ہوتی ہے دوسرے کے لیے وہی دوا نافع، دوائیوں کا راز اور شفا دینا خدا کے ہاتھ میں ہے کسی کو یہ علم نہیں۔کل ایک دوائی مَیں استعمال کرنے لگا تو الہام ہوا ’’خطرناک‘‘ ۱ بدر جلد ۷ نمبر ۵ مورخہ ۶؍فروری ۱۹۰۸ء صفحہ ۵