ملفوظات (جلد 10) — Page 99
دوا میں اندازہ کرنے پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ ضرور تول لینا چاہیے۔مسلمان کس طرح ترقی کر سکتے ہیں ؟ آریہ اگر یہ گند نہ بولتے تو ہمارے لیے تحریک نہ ہوتی۔حقائق ومعارف کے لیے اُن کے اعتراضات بہانہ ہو گئے۔غیر قوموں میں اپنے قومی مذہبی کاموں میں چندہ دینے کا جو جوش ہے وہ مسلمانوں میں نہیں۔شاید اس لئے کہ’’ کریماں رابدست اندر درم نیست‘‘ مگر مسلمانوں میں بھی کئی نواب ہیں۔کئی امراء و دولتمند۔ہر مسلمان کا یہ مقصد ہونا چاہیے کہ سچائی پھیل جائے۔مسلمانوں پر پہلے بھی جب اقبال کا زمانہ آیا تو دینی رنگ میں ترقی کرنے سے۔اب بھی اگر وہ پہلا زمانہ دیکھنا چاہتے ہیں تو دین کی طرف توجہ کریں۔ان لوگوں کی تقلید سچے مسلمانوں کے لئے کوئی نتیجہ نہیں دے سکتی۔مسلمانوں میں جو آجکل مصلح بنے ہیں وہ بجائے اس کے کہ اپنی حالت درست کریں نماز روزہ کے احکام میں ترمیم کرنا چاہتے ہیں۔اس میں قوم کی ترقی سمجھتے ہیں۔خدا تعالیٰ تو دین کے ذریعہ ترقی چاہتا ہے اور یہ لوگ بے دین ہونے سے ترقی طلب کرتے ہیں جس میں کبھی کامیابی نہیں ہو گی۔اسلام ہی خدا کو واحد لاشریک مانتا ہے۔اگر یہ مسلمان بھی ا س توحید سے الگ ہو گئے تو ان کے حق میں اچھا نہیں ہو گا۔دوسری قوموں کی تقلید اُن کے لئے مبارک نہیں ہو سکتی۔دوسروں کو اگر بے دینی سے کامیابی بھی ہوتی ہے تو یہ بطور ابتلا ہے۔ہر شخص سے خدا تعالیٰ کا معاملہ علیحدہ ہے۔عیسائی قومیں ناپسند کریں۔شراب خوری قمار بازی کریں تو یہ اُن کے لئے مفید ہو سکتے ہیں لیکن اگر مسلمان ایسے کام کریں تو ان پر ضرور عذاب نا زل ہوگا۔دیکھو! ظاہر ی سلطنت کا بھی یہی قاعدہ ہے کہ اگر ملازم کسی شورش کے جلسہ میں شامل ہو تو اس کو عبرت ناک سزا دی جاتی ہے۔پس اسی طرح جو کلمہ پڑھنے والے ہیں یہ خدا کے خاص بندے ہیں۔اگر یہ لوگ گستاخی کریں اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری نہ کریں تو ضرور گرفتار ہوں گے۔یہ الہام جو ہم کو ہوا۔’’ وہ وعدہ ٹلے گا نہیں جب تک خون کی ندیاں چاروں طرف سے بہہ نہ جائیں ‘‘