ملائکۃ اللہ — Page 61
บ ملائكة الله تک کھودا جائے تو اچھا پھل پیدا ہوگا یہ اس لئے نہیں کہ خدا اس کا محتاج ہے بلکہ اس لئے کہ زمینداروں میں سے جو بڑا زمیندار بنا چاہتا اور اچھی کھیتی پیدا کرنا چاہتا ہے اس کو اس کی احتیاج ہے۔اگر زمین کا عمدہ پھل لاناکسی محنت یا علم پر نہ رکھا جاتا تو کسی زمیندار کو دوسرے پر فضیلت نہ ہوتی اور مقابلہ کی جو روح اس وقت کام کر رہی ہے بالکل مفقود ہو جاتی۔دوسرے یہ بھی بات ہے کہ اگر مخفی اسباب نہ ہوتے تو خدا کا جلال لوگوں پر ظاہر نہ ہوتا اور اس کی قدرت کی قدر وہ نہ کرتے۔اگر سب باتیں پہلے سے ہی معلوم ہوتیں تو خدا کا جلال کس طرح بندوں پر ظاہر ہوتا ؟ یہ اسی طرح ظاہر ہوتا کہ انسان کسی بات کے متعلق جتنی تلاش اور جستجو کرتا ہے اتنا ہی اس کے متعلق نئی نئی باتیں دریافت کرتا جاتا ہے اور اس طرح خدا تعالیٰ کی قدرت کا اسے اعتراف کرنا پڑتا ہے۔پس مخفی اسباب کا پیدا کر نا خدا کی احتیاج کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ یہ بندہ کی اصلاح اور فائدہ کے لئے ہے۔اور یہ مخفی اسباب جن کے دریافت کرنے سے درجہ اور ترقی اور عزت حاصل ہوسکتی ہے ان کی آخری کڑی ملائکہ ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ اسباب اس وسعت کے ساتھ ظاہر ہوئے کہ آپ کو جو ترقی اور درجہ حاصل ہو اوہ اور کسی کو حاصل نہ ہو سکا۔اسی طرح حضرت مسیح موعود پر یہ اسباب ظاہر ہوئے اور آپ کو بھی اعلیٰ عزت اور رتبہ نصیب ہو گیا۔پھر ان کے ذریعہ مجھ پر بھی یہ اسباب ظاہر ہوئے اور مجھے بھی خدا تعالیٰ نے عزت اور رتبہ عطا کیا۔تو یہ مدارج کا تفاوت بھی نہ ہوتا اور سب ایک ہی جیسے ہوتے۔لیکن مخفی اسباب کی وجہ سے جتنے جتنے اسباب کسی پر ظاہر ہوئے انہی کے مطابق اس کو درجہ بھی ملا۔اس امر میں کیا شبہ ہے کہ بالعموم مسبب ظاہر ہوتا ہے اور سبب مخفی۔اور مخفی کے دریافت کرنے کے لئے انسان کو محنت برداشت کرنی پڑتی ہے جو اس کے لئے موجب