ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 50

بائیں طرف ہوگئی۔ملائكة الله اس قسم کی باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتب قانون ہے جس کے ماتحت سب کام ہو رہا ہے۔اگر ایک بالا رادہ ہستی پیچھے نہ ہوتی تو پھر یہ کام کس طرح چلتا ؟ اب سوال یہ ہے کہ وہ بالا رادہ ہستی کون ہے؟ اس کا فیصلہ خدا تعالیٰ ہی کر سکتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ ملائکہ ہیں۔پس ہر ایک چیز پر ملائکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ذریعہ یہ انتظام چل رہا ہے۔مجھے ذاتی طور پر اس بات کا تجربہ ہے کہ ہر چیز پر ملائکہ کا قبضہ ہے اور ان کے ارادے کے ماتحت وہ چیز کام کرتی ہے۔ایک دفعہ مجھے بخار ہوا۔ڈاکٹر نے دوائیں دیں مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ایک دن چودھری ظفر اللہ خان صاحب آئے ان کے ساتھ ایک غیر احمدی بھی تھا۔ان کو میں نے اپنے پاس بلالیا۔ان کے آنے سے پہلے مجھے غنودگی آئی اور ایک مچھر میرے سامنے آیا اور کہا آج تپ ٹوٹ جائے گا۔جب ڈاکٹر صاحب اور چودھری صاحب اور ان کا غیر احمدی دوست اور بعض اور احباب آئے تو میں نے ان کو وہ کشف بتا دیا۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد جب ڈاکٹر صاحب نے تھرما میٹر لگا کر دیکھا تو اس وقت تپ نہیں تھا۔در اصل وہ مچھر نہیں بولا تھا بلکہ اس کی طرف سے وہ فرشتہ بولا تھا جس کا مچھر پر قبضہ تھا تو ہر ایک چیز جو انتظام اور ارادہ کے ماتحت کام کر رہی ہے ملائکہ کی ہستی کا ثبوت ہے۔(۲) جسمانی بناوٹ سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائکہ ہیں کیونکہ موجودہ تحقیقات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ جو چیزیں دُنیا میں ہمیں نظر آتی ہیں یہ اصل میں ایسی ہی نہیں ہیں۔مثلاً انسان جو ہمیں نظر آتا ہے یہ ایک ہی چیز سے بنا ہو انہیں ہے بلکہ کروڑوں ذرات سے مل کر بنا ہوا ہے۔پھر وہ ذرے بھی آگے کئی کروڑ ذرّوں سے مل کر بنے ہیں۔پھر وہ بھی بار یک در