ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 49 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 49

۴۹ ملائكة الله ہے کہ اس کو چھوٹا سا سیارہ ثابت کریں مگر کہتے ہیں کہ یہ مرکز میں ہے۔ہم کہتے ہیں اسے کیوں مرکز میں جگہ ملی ہے؟ بات اصل میں یہ ہے کہ چونکہ بنی نوع انسان اس پر بستے ہیں اس لئے ضروری تھا کہ سارے ستارے اس پر اثر ڈالتے اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا تھا کہ یہ مرکز میں ہوتی۔اس سے معلوم ہوا کہ یہ ارادہ کے ماتحت بنائی گئی ہے یونہی نہیں بنائی گئی۔اسی طرح باقی سارا انتظام ہے۔کئی سال ہوئے ایک ستارہ نمودار ہوا تھا جس کے متعلق خیال کیا گیا تھا کہ وہ زمین سے ٹکرائے گا اور ساری دُنیا تباہ ہو جائے گی مگر کچھ عرصہ کے بعد اس کا رُخ بدل گیا اور کچھ بھی نہ ہوا۔کئی دفعہ ایسا ہوا ہے اور یہی خیال کیا جاتا رہا ہے کہ ستارہ کے زمین کے ساتھ ٹکر انے سے زمین تباہ ہو جائے گی۔جو ایسے ٹھوس ستارے ہوتے ہیں کہ ان کے ٹکرانے سے زمین تباہ ہو جاتی ہے وہ جب اس حد پر پہنچتے ہیں کہ زمین سے ٹکرائیں تو اس وقت اپنا راستہ بدل لیتے ہیں۔اور یہ عجیب بات ہے کہ دمدار ستارے جن کے ٹکرانے سے کوئی نقصان نہیں ہوسکتا وہ زمین کے پاس آ جاتے ہیں اور ان کی دُم زمین سے ٹکرا جاتی ہے۔مگر وہ ایسے باریک ذروں سے بنی ہوئی ہے کہ دُنیا کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا۔ایک دفعہ یورپ کے سائنس دانوں نے اعلان کیا تھا کہ اب ستارہ زمین کے پاس سے گزرے گا جس سے دُنیا تباہ ہو جائے گی۔اس پر کئی لوگ خود کشی کر کے مر گئے کہ نہ معلوم اس وقت کس قدر دکھ اور تکلیف سے مریں۔مگر وہ ستارہ آیا اور گزر گیا اس سے کچھ نقصان نہ ہو ا۔اس پر ہیئت دانوں نے بتایا کہ اس کے ذرات اتنے باریک تھے کہ جب وہ سورج کے مقابلہ میں آیا تو اس کی دُم سُورج کی شعاؤں کے دباؤ سے ہٹ کر دائیں سے