ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 48

۴۸ ملائكة الله اور جس کے مدارج میں ترقی نہ ہو سکتی ہو اس کے حق میں دُعا فضول ہے۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ کو کہا کہ جبرائیل نے تمہیں السلام علیکم کہا ہے۔اس پر حضرت عائشہ نے کہا وعلیکم السلام۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو منع نہیں فرمایا۔(ابن ماجه کتاب الادب باب رد السلام ) اسی طرح جب تک تشہد نہ اُتر ا تھا صحابہ کہا کرتے تھے خدا تعالیٰ پر سلام، جبرائیل پر سلام ، فلاں فلاں پر سلام۔اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خدا پر سلام کہنے سے منع فرمایا لیکن جبرائیل پر سلام کہنے سے منع نہ کیا۔اگر جبرائیل کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہوتا تو آپ منع کر دیتے۔اس سے زیادہ ملائکہ کو فائدہ پہنچانے کا اور کوئی پتہ نہیں لگتا۔ملائکہ کے وجود کا ثبوت اب میں اس امر کا ثبوت پیش کرتا ہوں کہ ملائکہ واقع میں ہیں۔پہلے تو قرآن سے یہ بتایا گیا ہے کہ ہیں، اب میں دلائل سے ثابت کرتا ہوں کہ کس طرح معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ ہیں؟ (۱) ہم دیکھتے ہیں کہ تمام عالم میں ایک قانون جاری ہے اور وہ ایسا زبردست قانون ہے کہ اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا اور وہ قانون ایک ارادہ کے ماتحت ہے۔مثلاً آسمان میں ہم ستاروں کی گردش دیکھتے ہیں۔ان میں ایسی حکمت پائی جاتی ہے کہ ان کا انتظام بلا وجہ اور بغیر کسی ارادہ کے نہیں ہو سکتا۔پھر یہی زمین ہے جو آباد ہے۔اسٹرا نومرز نے اس کو معمولی سیارہ ثابت کرنے کے لئے بڑاز ور مارا ہے اور انہوں نے بڑی کوشش کی سنن نسائی کتاب الافتتاح باب كيف التشهد الاوّل