ملائکۃ اللہ — Page 28
۲۸ ملائكة الله کرے گا اور خون بہائے گا۔اس کا کیا انتظام ہوگا ؟ یہ سوال کرنا بتا تا ہے کہ ایک حد تک ان میں ارادہ ہوتا ہے جو نہ تو بدی تک جاتا ہے اور نہ نیکی سے آگے گزر جاتا ہے۔مگر اس آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے پوچھا۔کہا جا سکتا ہے ممکن ہے کہ خدا نے الہام کیا ہو کہ پوچھو تو انہوں نے پوچھا ہو۔اول تو یہی بات غلط ہے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے کہنے پر پوچھا کیونکہ آگے خدا تعالیٰ فرماتا ہے اِن كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ اگر تم یہ سوال کرنے میں بچے ہو تو اسماء بتاؤ۔اس سے معلوم ہوا کہ ان کا سوال خدا کے حکم کے ماتحت نہ تھا۔پھر حدیثوں میں ہم ایسی باتیں پڑھتے ہیں جن سے فرشتوں کا ارادہ ظاہر ہوتا ہے۔جیسا کہ آتا ہے:۔ایک شخص ایک عالم کے پاس گیا اور جا کر کہا میں نے اتنے گناہ کئے ہیں کیا میں تو بہ کر سکتا ہوں؟ اس نے کہا تمہاری توبہ قبول نہیں۔اس نے اسے قتل کر دیا اور پھر ایک اور شخص کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوا تا کہ اس کے پاس تو بہ کرے مگر راستے میں ہی مر گیا۔اس پر جنت والے فرشتوں نے کہا کہ ہم اسے جنت میں لے جائیں گے کہ یہ تو بہ کی نیت کر چکا تھا اور دوزخ والے فرشتوں نے کہا ہم اسے دوزخ میں لے جائیں گے کہ یہ تو بہ کرنے سے پہلے مر گیا۔(مسلم کتاب التوبة باب قبول توبۃ القاتل و ان كثر قتلہ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ میں ارادہ ہوتا ہے۔پھر اس آیت سے بھی پتہ لگتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔مَا كَانَ لِي مِنْ عِلْمٍ بِالْمَلَا الْأَعْلَى إِذْ يَخْتَصِمُونَ (ص:۷۰) مجھے کیا معلوم تھا اس بحث کا حال جب فرشتے آپس میں بحث کر رہے تھے۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ ایک دوسرے سے بحث بھی کر لیتے ہیں۔پس ان میں ارادہ پایا جاتا