ملائکۃ اللہ — Page 27
۲۷ ملائكة الله اللہ نے آدم کو سارے نام سکھا دیئے اور پھر ملائکہ کے سامنے ان چیزوں کو جن کے نام سکھائے تھے پیش کیا اور پوچھا کہ مجھے ان کے نام بتاؤ اگر تم حق پر ہو۔انہوں نے کہا کہ تو پاک ہے۔ہمیں کچھ علم نہیں۔مگر اتنا ہی جتنا کہ تو نے ہمیں سکھایا ہے۔ضرور تو بہت جاننے والا حکمت والا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم سے کہا کہ وہ نام بتائے اور انہوں نے بتا دیئے۔اس جگہ ضمنی طور پر میں اس سوال کا جواب دے دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے خود کیوں نام نہ بتا دیئے؟ آدم سے کیوں کہلوائے؟ سو اس میں یہ حکمت تھی کہ اگر خدا تعالیٰ بتا تا تو ان میں ساری صفتیں آجاتیں۔حضرت آدم کو کہا گیا کہ تو بتا۔یعنی تیری طرف یہ دیکھ لیں۔غرض ملائکہ کی طاقتیں انسان سے محدود ہوتی ہیں۔مگر باوجود اس کے ملائکہ جو کچھ کرتے ہیں خدا کے حکم اور منشاء کے ماتحت کرتے ہیں۔کسی قسم کی نافرمانی نہیں کر سکتے۔گیارہویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ میں ارادہ ہے مگر بہت محدود۔اس کی مثال ایسی ہے جیسے گھوڑے کے گلے میں لمبارسہ ڈال کر ایک کیلے سے باندھ دیا جائے کہ حرکت کرتا رہے لیکن اس حلقہ سے باہر نہ جاسکے۔ملائکہ بھی ایک مرکز کے اردگرد حرکت کرتے رہتے ہیں اور اس حد سے باہر نہیں جاسکتے۔وہ حد یہی ہے کہ : - لا يَعْصُونَ الله مَا آمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحريم :) اس حد سے باہر نہیں جاسکتے۔فرشتوں کے ارادہ کا پتہ زمین سے بھی لگتا ہے کہ وہ حضرت آدم کے متعلق کہتے ہیں :۔اتَجْعَلُ فِيهَا مَنْ يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ اليّمَاء (البقرة: ٣١) یہ انہوں نے خدا تعالیٰ سے سوال کیا ہے کہ ہمیں سمجھائیے کہ آدم دُنیا میں فساد