ملائکۃ اللہ — Page 3
ملائكة الله ہوں۔امام مالک نے کہا پھر لکھتا کیوں نہیں؟ انہوں نے کہا میں جو کچھ سنتا ہوں یاد ہو جاتا ہے۔امام مالک نے کہا اچھا جو کچھ میں نے پڑھایا ہے سناؤ۔انہوں نے سنا دیا۔امام مالک کے دوسرے شاگرد کہتے ہیں کہ ہماری کا پیوں میں غلطیاں نکلیں مگر انہوں نے صحیح صحیح سنادیا۔لیکن ایسا ذہن ہر شخص کا نہیں ہوسکتا۔اس لئے ایسے طریق سے کام لینا چاہئے جس سے حافظہ کی کمزوری کی تلافی ہو سکے۔اور وہ یہ ہے کہ جو کچھ سنا جائے اسے اپنے طور پر نوٹ کر لیا جائے۔اس سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ انسان اسے بار بار دیکھ کر یاد کر لیتا ہے۔سنتے وقت پوری توجہ کرنی چاہئے اس کے بعد میں آپ لوگوں کو ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ کہ سُنتے ہوئے پوری جہ مضمون کی طرف دینی چاہئے کیونکہ جو بات علمی ہو اس کا سمجھنا اور یا درکھنا آسان بات نہیں۔اس کے لئے جب تک پوری توجہ نہ دی جائے انسان سننے کے بعد ایسا ہی کورے کا توجه کورا اُٹھتا ہے جس طرح کا کورا آیا تھا۔قرآن کریم میں ایسے لوگوں کے متعلق سخت الفاظ استعمال کئے گئے ہیں لیکن چونکہ مثال ہے اس لئے بیان کرتا ہوں:۔آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں منافق آتے اور باہر جا کر ایک دوسرے سے پوچھتے مَاذَا قَالَ انفا ( محمد : ۱۷) ابھی انہوں نے کیا بات کہی تھی۔وہ گو مجلس میں آتے لیکن سُنتے نہ تھے کہ کیا باتیں ہوتی ہیں؟ اس لئے ایک دوسرے سے پوچھتے۔اصل بات یہ ہے کہ جب انسان کسی ایسی مجلس میں بیٹھتا ہے جس میں دین کی باتیں ہوتی ہیں تو شیطان اس کی توجہ کو کہیں کا کہیں لے جاتا ہے تا کہ انسان ان باتوں سے فائدہ