ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 4 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 4

ملائكة الله نہ اُٹھا سکے اور ٹھوکر کھا جائے۔بہت لوگ ہوتے ہیں جو مجلس میں تو بیٹھتے ہیں لیکن جو بات سنائی جائے اس کی طرف تو جہ نہیں کرتے۔اور بعض اوقات جب ان سے پوچھا جائے کہ کیا کہا گیا ہے؟ تو کہ دیتے کہ مزا تو بڑا آیا تھا مگر یاد نہیں رہا کہ کیا کہا گیا تھا ؟ ایسے لوگوں کو مزا اس لئے نہیں آتا کہ وہ توجہ سے ٹن رہے تھے بلکہ اس لئے آتا ہے کہ دوسرے واہ واہ کہہ رہے اور مزا اُٹھا رہے تھے۔پس جو کچھ کہا جائے اسے غور سے سنو اور توجہ سے سنو۔اور جن کے پاس لکھنے کا سامان ہے اور وہ لکھنے کے عادی ہیں وہ لکھتے بھی جائیں۔ہاں جو لکھنے کے عادی نہ ہوں وہ لکھیں تا ایسا نہ ہو کہ لکھنے لگیں تو بھول جائیں۔جن میں لکھنے کی مشق ہے وہ لکھتے جائیں۔یہ میں اس لئے کہتا ہوں کہ بعض دفعہ بیماری یا کسی وجہ سے تقریریں جلدی شائع نہیں ہو سکتیں اور وہ نقوش جو یہاں سے دل پر ہوتے ہیں مٹ جاتے ہیں لیکن جنہوں نے خود لکھا ہوگا وہ اپنے لکھے کو دیکھ کر اپنی یاد تازہ کرسکیں گے۔پچھلے سال ایک ایسے اہم مسئلہ پر تقریر ہوئی تھی جو ایمانیات میں داخل ہے مگر ایسے اسباب ہو گئے کہ وہ تقریر جلدی نہ چھپ سکی اور اب چھپی ہے۔اب اسے جو پڑھے گا اسے نیا مضمون معلوم ہو گا مگر جنہوں نے نوٹ لکھے ہوں گے انہوں نے بہت فائدہ اُٹھایا ہوگا۔مضمون کی اہمیت آج کا جو مضمون ہے وہ بھی بہت اہم ہے اور اسلام کے بنیادی اُصول اور ایمانیات میں سے ہے اور نہایت بار یک مضمون ہے۔تقدیر کا مسئلہ مشکل تھا مگر اس طرف عام و خاص کی توجہ چونکہ لگی رہتی ہے، اس کا سمجھنا اس توجہ اور لگاؤ کی وجہ سے آسان تھا مگر یہ