ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 73 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 73

۷۳ ملائكة الله اب سوال ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی فرشتہ سب انسانوں پر اثر ڈالتا ہے تو پھر فرشتے نازل کس طرح ہوتے ہیں۔اس کے لئے یاد رکھو کہ ملائکہ کا نزول قرآن کریم کی اصطلاح ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ضرور فرشتہ آتا ہے بلکہ یہ ہے کہ دائمی طور پر اثر ڈالتا ہے دیکھو خدا تعالیٰ کے لئے بھی نزول کا لفظ آتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ لیلتہ القدر کے آخری حصہ میں خدا نیچے اُترتا ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنا بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے۔یہی معنے جبرائیل کے نزول کے ہوں گے کہ جبرائیل بھی بذات خود نہیں اترتا کیونکہ وہ تو مقام معلوم پر ہوتا ہے اور اس سے نہیں ہلتا اسی اپنے مقام پر بیٹھا اثر ڈالتا ہے۔دیکھو جب سورج شیشے میں اثر ڈالتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ اس میں اُتر آتا ہے۔اسی طرح جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آتا تھا بلکہ اُس کا عکس آتا تھا۔انسان کی شکل میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو وہ خود نہیں آیا تھا بلکہ اس نے اپنے اثر سے انسان کی ایک شکل پیدا کی تھی وہ آئی تھی۔ورنہ وہ تو جہاں ہے وہیں موجود رہتا ہے۔پس اس کے نزول کے معنے صرف یہ ہیں کہ جس طرح شیشے میں سورج عکس ڈالتا ہے۔اسی طرح جبرائیل ایسے دل میں جو اس کا اثر قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے اپنا اثر ڈالتا ہے اور یہی اس کا نزول ہے۔جب یہ نزول ہوتا ہے تب روح القدس انسان کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وہ ہر کام اسی کے ذریعہ کرتا ہے۔یہی بات حضرت عیسی کے متعلق آئی۔عیسائی کہتے ہیں کہ شیطان ان کو دھوکا دیتا تھا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان ان کو کس طرح دھوکا دے سکتا تھا ان کے ساتھ تو جبرائیل تھا۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب جبرائیل کے نازل ہونے کا یہ مطلب ہے کہ