ملائکۃ اللہ — Page 72
۷۲ ملائكة الله ہوتا ہے۔که شیطان ان کا قرین بن جاتا ہے اور یہ بہت بُرا دوست ہے۔یہ دوسرا درجہ پھر تیسرا درجہ شروع ہوتا ہے۔یعنی شیطان آقا بن جاتا ہے اور انسان اس کا غلام۔ایسے ہی لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عبد الطَّاغُوتِ ہیں۔یعنی وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے غلام ہو جاتے ہیں۔گویا وہ جو نیکی کی طرف جا رہا ہوتا ہے وہ تو آخر ملک پر سوار ہو جاتا ہے اور یہ جو بدی کی طرف جارہا ہوتا ہے اس پر آخر شیطان سوار ہو جاتا ہے۔یہ تین سلسلے ہیں نیکی بدی کے جو بندوں سے تعلق رکھتے ہیں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر انسان کی ان حالتوں میں سے کوئی حالت ہوتی ہے تو کیا ہر انسان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ فرشتے ہوتے ہیں؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ہر انسان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ فرشتے ہوتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں فرشتے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ کہ ہر انسان کے ساتھ ان میں سے ایک ایک دود و مقرر ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَيْهَا حَافِظ (الطارق:۵) کوئی نفس نہیں جس پر ایک نگران مقرر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے۔دوسرے فرشتے وہ ہوتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا ہر انسان سے تعلق ہوتا ہے اور ہر انسان پر ان کا اثر کم و بیش پڑ رہا ہوتا ہے۔چنانچہ جبرائیل سب پر اثر ڈالتا ہے۔ایسے فرشتوں کے آگے خادم ہوتے ہیں وہ ان کے اثرات دیگر اشیاء تک پہنچاتے ہیں۔