ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 69

۶۹ ملائكة الله قرآن کریم میں مثال کے ذریعہ بتایا گیا ہے کہ ملائکہ کو نہ ماننے کا کیا نتیجہ ہوتا ہے؟ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَئِكَةِ اسْجُدُوا لِأَدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبِى وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَفِرِينَ(البقرة: ۳۵) اللہ نے جب ملائکہ کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا۔لیکن ابلیس نے انکار کر دیا اور کافر ہو گیا۔اب یہ قرآن سے پتہ لگتا ہے کہ ابلیس ملک نہ تھا بلکہ جن تھا اور ملائکہ کا غیر تھا۔اور غیر کو کس طرح معلوم ہو گیا کہ آدم کو سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ حکم تو ملائکہ کو ہی دیا گیا۔اسے اسی طرح معلوم ہوسکتا تھا کہ ملائکہ نے اس کو سجدہ کرنے کی تحریک کی ہومگر اس نے اس کو نہ مانا۔نتیجہ کیا ہوا؟ کافر ہو گیا۔تو ملائکہ کی تحریکیں ماننا بھی فرض ہیں اور وہ نیک ہی ہوتی ہیں۔اب میں یہ بتا چکا ہوں کہ ملائکہ کیا چیز ہیں، ان کا کیا کام ہے؟ اور یہ بھی کہ ان پر ایمان لانا کیوں ضروری ہے؟ ان کی کیا ضرورت ہے؟ پھر ان پر جو اعتراض پڑتے ہیں ان کے جواب بھی دے چکا ہوں۔مگر ان کے متعلق اور بھی سوال پیدا ہوتے ہیں اور میں اب ان سوالوں کا جواب دیتا ہوں۔ملائکہ اور ان کا تعلق کتنی اقسام کا ہوتا ہے؟ اب میں یہ بیان کرتا ہوں کہ ملائکہ کا فیضان کتنی اقسام کا ہے؟ لیکن چونکہ ملائکہ کے فیضان کے ساتھ ہی یہ سوال بھی پیدا ہو جاتا ہے کہ شیطان کا انسان کے ساتھ کس قسم کا تعلق ہے کیونکہ یہ دونوں ہستیاں بالمقابل ہیں اس لئے میں ساتھ ہی اس کا بھی ذکر