ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 68 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 68

۶۸ ملائكة الله کسی امر کے متعلق جو رائے دے اس سے کسی کو اتفاق نہ ہو۔چنانچہ حضرت ابوبکر نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے زکوۃ دینے سے انکار کر دیا تھا یہ کہا تھا کہ ان کو غلام بنا لینا جائز ہے کیونکہ وہ مرتد اور کافر ہیں۔مگر اس کے متعلق حضرت عمر اخیر تک کہتے رہے کہ مجھے اس سے اتفاق نہیں۔لیکن اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے تو اس سے اختلاف کرنا ان کے لئے جائز نہ تھا۔انبیاء سے چونکہ اصول کا تعلق ہوتا ہے اس لئے ان سے اختلاف کرنا ہرگز جائز نہیں ہوتا۔ہاں تفصیلات میں خلفاء سے اختلاف ہوسکتا ہے۔چنانچہ اب بھی کسی علمی مسئلہ میں اختلاف ہو جاتا ہے۔اور پہلے بھی ہم دیکھتے ہیں کہ بعض دفعہ خلفاء کو دوسروں کی بات ماننی پڑی ہے اور بعض دفعہ خلفاء کی بات دوسروں کو ماننی پڑی ہے چنانچہ حضرت عمر اور صحابہ میں یہ مسئلہ اختلافی رہا کہ جنبی خروج ماء سے ہوتا ہے یا محض صحبت سے۔غرض خلفاء سے اس قسم کی باتوں میں اختلاف ہوسکتا ہے لیکن انبیاء سے نہیں کیا جا سکتا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اگر کوئی التحیات میں اُنگلی اُٹھانے کے متعلق اختلاف کرے گا تو بھی کافر ہو جائے گا۔لیکن مجد دین اور خلفاء ایسے نہیں ہوتے کہ مسائل میں بھی اگر ان سے اختلاف ہو جائے تو انسان کا فر ہو جائے مگر انبیاء کی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔ان کی کوئی بات سمجھ میں آئے یا نہ آئے یہی کہنا فرض ہے کہ جو نبی کہتا ہے وہی سچ ہے۔غرض ملائکہ پر ایمان لانے کے یہ معنے ہیں کہ ملائکہ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہے۔اس لئے یہی حکم دیا کہ ملائکہ جو کہیں اس کو مانو یعنی ایمان لاؤ۔اور اس کا ثبوت قرآن سے ملتا ہے کہ ملائکہ جو کہتے ہیں وہ صحیح ہوتا ہے۔