ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 67

۶۷ ملائكة الله کئے جائیں تو ان پر ایمان لانے کا یہ مطلب ہوگا کہ انکی تحریکات کو مانا کرو۔اسی طرح کتابوں اور رسولوں پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوں گے کہ جو احکامِ الہی کتابوں میں ہوں ان کو مانو۔جو کچھ رسول تم کو حکم دیں ان کو مانو۔اور قیامت پر ایمان لانے کے یہ معنے ہوئے کہ اس کا خیال کر کے بڑی باتوں سے بچو۔تو خدا، ملائکہ، کتب، اور رسولوں پر ایمان لانے سے مراد ان کے احکام ماننا ہے۔کوئی کہ سکتا ہے کہ اگر ایمان لانے کا یہ مطلب ہے تو پھر ان چاروں پر ایمان لانے کا کیوں حکم دیا گیا ہے۔ان کے علاوہ مسجد دبھی ہوتے ہیں اور انبیاء کے خلفاء بھی ہوتے ہیں ان کے احکام مانتا بھی ایمان میں داخل ہونا چاہئے اور ان کا انکار کفر ہونا چاہئے۔لیکن جب ان کا انکار کفر نہیں تو پھر باقیوں کا انکار کیوں کفر ہے؟ یہ ٹھیک ہے کہ خلفاء اور محد دین بھی اچھی باتیں بتاتے ہیں لیکن خدا تعالیٰ، نبیوں ، ملائکہ اور کتب کی باتوں اور ان کی باتوں میں ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ ایمانیات میں وہ داخل ہیں جن کی کسی چھوٹی سے چھوٹی بات سے اختلاف کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔مثلاً اگر کوئی یہی کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے وقت پاؤں دھونے کا جو حکم دیا ہے وہ ٹھیک نہیں ہے تو وہ کافر ہو جائے گا مگر خلیفہ سے تفصیلات میں اختلاف ہو سکتا ہے۔مثلاً خلیفہ ایک آیت کے جو معنے سمجھتا ہے وہ دوسرے شخص کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ ان کو نہ مانے تو اس کے لئے جائز ہے۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق جو کہے کہ فلاں آیت کے آپ نے جو معنے کئے ہیں میں ان کو نہیں مانتا تو کافر ہو جائے گا۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودہ میں سے ایک شوشہ بھی رد کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے۔گو خلفاء کے احکام ماننا ضروری ہوتے ہیں لیکن ان کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ممکن ہے کہ خلیفہ