ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 43 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 43

۴۳ ملائكة الله سولہواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو علم سکھاتے اور تعلیم دیتے ہیں۔یعنی ان کو مقرر کیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو علم کی طرف توجہ کرنے والے ہوں ان کے قلوب پر علم کی روشنی ڈالتے رہو۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس متمثل ہو کر آئے اور سوال کیا یا رسول اللہ ایمان کیا ہے؟ دین کیا ہے؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے رہے۔جب چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہ کو فرمایا جانتے ہو یہ کون تھا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم تو نہیں جانتے آپ ہی صحابة بتائیے۔آپ نے فرما یا یہ جبرائیل تھا جو تمہیں دین سکھانے کے لئے آیا تھا۔(بخاری کتاب الایمان باب سؤال جبريل النبي عن الايمان والاسلام) تو ملائکہ کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ علوم سکھاتے ہیں، مگر دینی علوم ہی نہیں۔دُنیا کے معاملات کے متعلق علوم بھی سکھاتے ہیں حتی کہ کافروں کو بھی سکھاتے ہیں۔میں نے ایڈیسن کی ایک کتاب پڑھی ہے۔وہ لکھتا ہے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو میں نے ایجاد کر کے نکالی ہو۔ایک دم میرے دل میں آکر ایک بات پڑتی اور میں اس کو عمل میں لے آتا۔اس کو چونکہ ایسے علوم کا شوق تھا اس لئے اس قسم کی باتیں سکھائی گئیں۔نبیوں اور ولیوں میں چونکہ دینی علوم کا شوق ہوتا ہے اس لئے انہیں دینی علوم سکھاتے ہیں۔فرشتوں کے علوم سکھانے کا بھی عجیب طریق ہے۔وہ جو بات سکھاتے ہیں اسے OBJECTIVE MIND (قلب عامل ) میں نہیں رکھتے بلکہ SUB CONSCIOUS MIND ( قلب غیر عامل ) میں رکھتے ہیں۔یعنی دماغ کے پچھلے حصہ میں رکھتے ہیں تا کہ سوچ کر انسان اسے نکال سکے۔اس میں ظاہری دماغ سے حفاظت کی زیادہ طاقت ہوتی ہے اور یہ ذخیرہ کے طور پر ہوتا ہے۔ملائکہ جو کچھ سکھاتے