ملائکۃ اللہ — Page 42
۴۲ ملائكة الله آسمان والوں میں پکارتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔پس تم بھی اس سے محبت کرو۔پس اس پر سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں۔پھر اس کی قبولیت زمین میں پھیلا دی جاتی ہے۔اس زمانہ میں یہ نظارہ دیکھ لو۔یہ وہ زمانہ ہے کہ لوگ حکومتوں کو کہہ رہے ہیں کہ ہم تمہیں کیوں مانیں؟ مگر اسی زمانہ میں لوگ حضرت مسیح موعود کی غلامی میں داخل ہو رہے ہیں۔اور جو بعد میں داخل ہوتے ہیں انہیں افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے پہلے کیوں نہ آپ کو مان لیا؟ یہ ملا کہ ہ کی پھیلائی ہوئی محبت ہے۔خدا تعالیٰ کے پیاروں کی صداقت کی یہ ایک لطیف دلیل ہے۔جھوٹے مدعی اُٹھتے ہیں بڑا شور مچاتے ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں۔اسی زمانہ میں ایک ظہیر الدین اروپی اور دوسرا عبداللہ یا پوری ہے۔بار ہا انہوں نے اپنے متعلق ٹریکٹ لکھ لکھ کر چھپوائے اور شائع کئے مگر کوئی ان کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا۔مگر حضرت مسیح موعود کے متعلق دیکھو کس طرح آپ کی محبت دنیا میں پھیلی ؟ اور پھیل رہی ہے۔پندرہواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ کبھی ملائکہ کو خدا کے پیاروں کی خدمت میں لگادیا جاتا ہے۔اور ماموروں کے خادم اور غلام بنا دیئے جاتے ہیں۔جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ (الحجر: ۳۰،۲۹) خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو کہا کہ مٹی سے بشر بنانے والا ہوں۔جس وقت میں اس کو بنا چکوں اور اس پر اپنا کلام نازل کروں۔یعنی اسے نبی بناؤں اس وقت تم اس کی غلامی میں جھک جانا۔گو یا ملائکہ کو نبی کی غلامی میں دیا جاتا ہے اور وہ نبی کے مقام سے نیچے آجاتے ہیں۔