ملائکۃ اللہ — Page 41
نے تیرا شریک کسی کو نہیں ٹھہرایا۔۴۱ ملائكة الله فرشتوں کے اس قول سے مؤمنوں کو بھی سبق لینا چاہئے کہ اس قدر عبادت کرنے کے بعد فرشتے کہیں گے ہم نے کچھ نہیں کیا۔مگر بعض لوگ تھوڑی سی عبادت کر کے کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے اتنی عبادت کی ہے۔فرماتا ہے: تیر ہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ لوگوں کے اعمال محفوظ رکھتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ وَإِنَّ عَلَيْكُمْ لَحفِظِينَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ (الانفطار : ۱۱ تا ۱۳) فرماتا ہے کہ تمہارے او پر فرشتے مقرر کئے گئے ہیں۔جن کا کام یہ ہے کہ تمہارے اعمال لکھتے رہتے ہیں جو تم ظاہر میں کرتے ہو۔باقی رہی نیت یہ ان ہی کو معلوم ہوتی ہے جن کو محاسبہ قلب کا کام سپرد ہے۔چودہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ جو خدا کے پیارے ہوتے ہیں ان کی محبت دُنیا میں پھیلاتے ہیں اور لوگوں کو تحریک کرتے ہیں کہ ان سے محبت کرو۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ:۔إِذَا أَحَبَّ اللهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَاحِبُّوْهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ ثُمَّ يُوْضَحُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ (بخاری کتاب بدء الخلق باب ذكر الملئكة) یعنی جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل کو پکارتا ہے کہ اللہ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔اس پر جبرائیل اس سے محبت کرنے لگتا ہے۔پھر جبرائیل تمام