ملائکۃ اللہ — Page 29
۲۹ ملائكة الله ہے مگر نہایت محدود۔بارہویں بات ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ وہ عالم الغیب نہیں ہیں۔کیونکہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلْئِكَةِ أَهْؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ ) قَالُوا سُبْحَنَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُّؤْمِنُونَ (سبا: ۴۱-۴۲) اور جس دن کہ اللہ ان سب کو اکٹھا کرے گا۔پھر ملائکہ سے کہے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے۔وہ کہیں گے تو پاک ہے ان سے ہمارا کیا واسطہ ہے۔ہمارا دوست تو تُو ہے۔یہ لوگ تو جنوں کی عبادت کرتے تھے۔اور ان میں سے اکثر ان پر ایمان لاتے تھے۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوں کو علم غیب نہیں۔کیونکہ اگر انہیں علم غیب ہوتا تو وہ عبادت سے لاعلمی ظاہر نہ کرتے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے یونہی سوال کیا تھا کیونکہ ایسے موقع میں بلاوجہ سوال بھی ایک قسم کا جھوٹ بن جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے۔دوم پچھلی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ فرشتوں کی عبادت کے بھی قائل تھے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے بوجہ عدم علم کے اس امر سے انکار کر دیں گے کہ بعض انسان ان کی عبادت کرتے تھے۔بعض حدیثوں سے بھی یہ بات وضاحت کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے کہ فرشتے عالم الغیب نہیں ہوتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔ایک شخص مؤمن کہلاتا اور مؤمنوں والے کام کرتا ہے۔اس کے کاتب فرشتے جب اس کے عمل لے کر خدا تعالیٰ کے حضور میں پیش کرنے کے لئے لے جاتے ہیں۔مثلاً وہ نماز پڑھتا ہے اور وہ اس عمل کو اس کے حضور میں پیش کرتے ہیں تو آسمان سے آواز آتی ہے کہ