ملائکۃ اللہ — Page 30
ملائكة الله اسے واپس لے جاؤ اور جا کر اس کے منہ پر مارو۔یہ نماز اس نے میرے لئے نہیں پڑھی۔اس سے معلوم ہوا کہ ملائکہ کو غیب کا علم نہیں ہوتا اگر ہوتا تو وہ ایسی نماز کو لے ہی کیوں جاتے جو قابل قبول ہی تھی؟ تیرہویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ الگ الگ چیزوں کے الگ الگ فرشتے ہوتے ہیں۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ کو اُحد کے دن سے زیادہ بھی کبھی تکلیف پہنچی ہے۔آپ نے فرمایا۔ہاں۔یوم عقبہ کو جب کہ مکہ والوں کے انکار کو دیکھ کر میں نے عبدیالیل کی قوم کی طرف توجہ کی مگر انہوں نے توجہ نہ کی اور میری بات کو ر ڈ کر دیا۔اس پر میں سخت غمگین ہو کر بلا کسی خاص جہت کو مد نظر رکھنے کے یونہی ایک طرف کو نکل کھڑا ہوا۔راستہ میں میں نے ایک بادل کا ٹکڑا دیکھا۔جس میں جبرائیل مجھے نظر آئے اور انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تیری قوم کی بات کوشن کر اور ان کی مخالفت کو دیکھ کر پہاڑ کے فرشتہ کو حکم دیا ہے کہ جو تو اسے حکم کرے وہ کرے۔اس پر پہاڑ کے فرشتہ نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں انشین کو ( مکہ کے گرد کے دو پہاڑ ) ان پر برابر کر دوں۔یعنی ان میں زلزلہ پیدا ہو کر وہ لوگ ہلاک ہو جائیں۔میں نے کہا کہ نہیں۔میں اُمید کرتا ہوں کہ ان کی اولا د نیک پیدا ہو جائے جو ایک خدا کی پرستش کرنے لگے۔(البداية والنهاية جلد ۳ ص ۱۳۵ تا ص ۱۳۷ مطبوعہ بیروت (۱۹۶۶ء) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبرائیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اس کا پورا نام عبدیالیل بن عمرو بن عمیر ہے یہ طائف کے رؤسا میں سے ایک تھا۔قبیلہ بنو ثقیف سے تعلق تھا۔(سیرت ابن ہشام عربی جلد ۲ صفحه ۶۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۶ء)