ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 26

۲۶ ملائكة الله کے۔اسی طرح فرماتا ہے:۔اِنَّ الَّذِينَ تَوَقُهُمُ الْمَلَئِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِيْمَ كُنْتُمْ (النساء : ٩٨) یعنی ضرور وہ لوگ کہ جن کی ملائکہ روح قبض کریں گے ایسے حال میں کہ وہ لوگ اپنی جانوں پر ظلم کر رہے ہوں گے۔ان سے ملائکہ کہیں گے کہ تم کس خیال میں ٹھہرے ہوئے تھے؟ اب ان تینوں آیتوں کو ملا کر دیکھو کہ اول الذکر آیت میں تو یہ بتایا گیا ہے کہ سب انسانوں کی جانیں نکالنے کا کام صرف ایک ہی فرشتہ کے سپر د کیا گیا ہے۔اور دوسری دونوں آیتوں میں یہ بتایا گیا ہے کہ جان بہت سے فرشتے نکالتے ہیں۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤکل تو ایک فرشتہ ہے مگر آگے اس کے نائب بہت سے فرشتے ہیں جو اس کی اطاعت میں اس کام کو بجالاتے ہیں۔اور جب موت کے انتظام میں افسری ماتحتی کے سلسلہ کو ملحوظ رکھا گیا ہے تو دوسرے امور کو بھی اسی پر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ تمام امور جو فرشتوں کے ذریعہ سے ہوتے ہیں۔وہ چند بڑے فرشتوں کے سپر د ہیں۔اور آگے ان کے ماتحت شمار سے باہر ایک جماعت کام کرتی ہے۔دسویں بات یہ ہے کہ فرشتوں میں انسان کی طاقتوں کے مقابلہ میں محدود طاقتیں ہوتی ہیں۔ملائکہ ایک ہی حالت میں رہتے ہیں لیکن انسان بہت ترقی کرسکتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَئِكَةِ فَقَالَ انْبِتُونِي بِأَسْمَاءِ هؤلاء إن كُنْتُمْ صَدِقِينَ قَالُوا سُبْحَنَكَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ (البقرة: ۳۲-۳۳)