ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 22

۲۲ ملائكة الله الْعَرْشِ اور مَنْ حَوْلَہ کے سوا تیسری قسم کے فرشتے ہیں۔زرتشتیوں میں بھی اس مسئلہ کا کسی قدر کچھ پتہ لگتا ہے۔کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ سات فرشتے ہیں جودُنیا کا کام چلاتے ہیں۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ قیامت کو آٹھ فرشتے خدا کے تخت کو اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔تخت سے مراد چاندی سونے کا تخت نہیں بلکہ وہ اعلیٰ صفات مراد ہیں جن سے خدا تعالیٰ کی الوہیت روشن ہوتی ہے۔اگلے جہان میں وہ آٹھ ملائکہ کے ذریعہ سے ظاہر ہوگی مگر اس دُنیا میں جیسا کہ استدلال سے ثابت ہوتا ہے سات فرشتوں سے ظاہر ہوتی ہے۔تو ایک وہ فرشتے ہیں جو خدا کا عرش اُٹھائے ہوئے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو اُن سے ادنی ہیں مگر خدا تعالیٰ کے مقرب ہیں اور وہ ایسے ہیں جیسے اسسٹنٹ ہوتے ہیں۔اصل کام ان کے سپر د نہیں ہوتا وہ ان کے مددگار ہیں اور تیسرے وہ جو ادنیٰ درجہ کے ہیں۔پس تین قسم کے فرشتے ہیں :- ا۔وہ جو خدا کی صفات ظاہر کرنے والے ہیں۔۲۔وہ جو اُن کے مددگار اور خدا کے مقرب ہیں۔۳۔وہ جو مختلف چھوٹے چھوٹے کاموں پر متعین ہیں۔اور ان کی تعداد کی تعیین ہی نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَط ( المدثر : ٣٢) ان کا اندازہ کوئی انسان کر ہی نہیں سکتا۔کیونکہ جیسا کہ نبیوں کے کلام سے ثابت ہوتا ہے ہر کام کا علیحدہ فرشتہ ہوتا ہے۔پانچویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ ایسی مخلوق ہے جو بدی کر ہی نہیں سکتی۔انسان میں تو یہ مادہ ہے کہ انبیا حتی کہ خدا کا بھی انکار کر دیتا ہے۔اور ایسے لوگ ہوتے ہیں جو