ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 21 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 21

۲۱ ملائكة الله الْمَلَئِكَةَ إِنَانًا وَهُمْ شَهِدُوْنَ (الصُّقْت: ۱۵۱) یہاں خدا تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تو مرد ہیں۔بلکہ یہ کہا ہے کہ یہ کہتے ہیں فرشتے لڑکیاں ہیں۔ان کو کیا پتہ ہے کہ وہ کیا ہیں؟ کیا یہ اس وقت موجود تھے؟ جب خدا نے فرشتوں کو بنایا۔خدا تعالیٰ نے فرشتوں کے مادہ ہونے سے تو انکار کر دیا مگر ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ وہ نر ہیں۔پس ان کو نر یا مادہ کہنا غلط ہے۔یہ تو مادی چیزوں میں ہوتا ہے۔روحانی چیزوں میں نر و مادہ نہیں ہوتا۔یہ نہیں کہ مرد کی روح نہ ہو اور عورت کی مادہ۔نر اور مادہ تو ظرف کی حالت ہے ان میں جو چیز ہے وہ ایک ہی ہے۔چوتھی بات ملائکہ کے متعلق یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان کے تین درجے ہیں۔وہ سارے کے سارے ایک قسم کے نہیں ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔الَّذِينَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهُ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُونَ بِهِ وَيَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةٌ وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ (المؤمن :) اس آیت سے تین قسم کے فرشتوں کا پتہ چلتا ہے۔دو قسم کے فرشتوں کا دلالت القص سے اور تیسری قسم کے فرشتوں کا اشارۃ النص سے۔کیونکہ اس میں بتایا گیا ہے کہ ایک تو وہ فرشتے ہیں جو عرش کو اٹھائے ہوئے ہیں اور ایک وہ فرشتے ہیں جو عرش کے گرد رہتے ہیں۔یعنی ایک تو وہ فرشتے ہیں جن کے ذریعہ سے احکام الہی جاری ہوتے ہیں۔اور ایک وہ فرشتے ہیں جو ان کے نائب اور ان کے احکام کو نچلے طبقہ تک لے جانے والے ہیں۔اور اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک اور طبقہ فرشتوں کا ہے جو ان عرش کے گرد رہنے والے فرشتوں سے بھی نیچے کا ہے۔اور احادیث سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔کیونکہ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض فرشتے مختلف اشیاء پر مقرر ہیں۔پس وہ حَمَلَةُ