ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 20

ملائكة الله گے۔یہودیوں کا خیال ہے کہ جب الہام ہوتا ہے تو ہزاروں فرشتے اس حرکت سے جو الہام کے الفاظ کے بیان سے پیدا ہوتی ہے پیدا ہوتے ہیں مگر پھر ساتھ ہی ہلاک ہو جاتے ہیں۔مگر زرتشتی فرشتوں کو غیر فانی ہستی مانتے ہیں۔دوسری بات ملائکہ کے متعلق یہ یا درکھنی چاہئے کہ یہ ایسی روحانی مخلوق ہیں کہ بندہ کو ان آنکھوں سے اپنے اصلی جسم میں نظر نہیں آ سکتے۔اور اگر ان آنکھوں سے نظر آئیں گے تو اپنے اصلی وجود کے سوا غیر وجود میں ہوں گے۔گویا فرشتوں کو دیکھنے کے لئے یا تو یہ ظاہری آنکھیں نہیں ہوں گی بلکہ رُوحانی آنکھوں کی ضرورت ہوگی اور اگر ان آنکھوں سے دیکھا جائے گا تو فرشتے اپنے اصلی جسم میں نہیں ہوں گے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَلَوْ جَعَلْنَهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنَهُ رَجُلًا وَلَلَبَسْنَا عَلَيْهِمْ مَّا يَلْبِسُونَ (الانعام: ۱۰) یہ لوگ کہتے ہیں کہ فرشتہ کیوں نہیں اترتا۔لیکن اگر فرشتہ آ جائے تو آدمی کی شکل میں ہی آئیگا۔تب یہ دیکھ سکیں گے۔اور جب انسان کی شکل میں آئے گا تو پھر بات مشتبہ رہے گی کہ یہ فرشتہ ہے یا آدمی؟ اور جو شبہ یہ اب پیدا کر رہے ہیں پھر بھی قائم رہے گا کہ یہ کلام خدا کا نہیں بلکہ انسانی بناوٹ ہے۔پس فرشتہ تو ہم تب بھیجتے جب اس کا کوئی فائدہ بھی ہوتا۔لیکن چونکہ ان آنکھوں سے لوگ فرشتے کو دیکھ نہیں سکتے اور اگر دیکھیں تو انسان کی شکل میں دیکھ سکتے ہیں اور اس پر وہ پھر اعتراض کریں گے اس لئے فرشتہ نازل نہیں کیا جاتا۔پس فرشتوں کا وجود نہانی ہے ان آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا۔تیسری بات ان کے متعلق یہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ ایسی مخلوق ہیں کہ نہ نر ہیں نہ مادہ۔اس بات کا پتہ اس آیت سے لگتا ہے جو میں نے پہلے پڑھی ہے کہ آم خَلَقْنَا