ملائکۃ اللہ — Page 119
119 ملائكة الله تعلق ہوتا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلْئِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّيْنَ لنَزَلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا (بنی اسرائیل: ۹۶) اگر دنیا میں ملائکہ ہوتے تو ہم بھی فرشتے رسول بنا کر نازل کرتے۔گویا خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر لوگ ترقی کرتے کرتے ملائکہ ہو جاتے تو ہم ان پر ملائکہ ہی نازل کرتے۔یعنی ملائکہ جیسے ہونے سے وہ نازل ہوتے ہیں۔اب ہمیں دیکھنا چاہئے کہ انسان ملائکہ جیسا کس طرح ہوتا ہے؟ اول طریق ملائکہ سے مشابہت حاصل کرنے کا یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے نبیوں کا پیغام دنیا کو پہنچایا جائے۔اللہ تعالیٰ ملائکہ سے فرماتا ہے۔فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُّوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ ( الحجر : ۳۰) یعنی اے فرشتو! جب میں انسان کو پیدا کروں اور پھر وہ اپنے کمال کو پہنچ جائے اور میں اس پر اپنا کلام نازل کروں تو تم اس کے کام میں ہر طرح مدد کرو اور اس کی پوری طرح فرمانبرداری کرو۔گویا نبی کے ساتھ ہونا اور اس کے مشن کی تبلیغ کرنا ملائکہ کا کام ہے۔اب جو شخص نبی کے ساتھ ہو جائے گا اور تبلیغ کرے گا وہ چونکہ ملائکہ جیسا کام کرے گا اس لئے انہی کی طرح کا ہو جائے گا اور جب وہ ایسا ہو جائے گا تو ملائکہ اس سے اُنس کرنے لگیں گے اور اس سے تعلق پیدا کر لیں گے۔دوسرا طریق جو ملائکہ سے مشابہت پیدا کرنے سے ہی تعلق رکھتا ہے یہ ہے کہ توحید کی اشاعت کی جائے۔کیونکہ خدا تعالیٰ ملائکہ کے متعلق فرماتا ہے کہ شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَئِكَةُ وَأُولُوا الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الحكيم ( ال عمران:۱۹ ) اللہ کی توحید کی خدا بھی گواہی دیتا ہے اور ملائکہ بھی۔اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی توحید کی اشاعت کرنا بھی ملائکہ کا ایک کام ہے اور جو اس کام کو کرتے