ملائکۃ اللہ — Page 116
ملائكة الله لئے یہ بات نہیں ہے۔تو فرشتوں کی تحریک سے انسان جتنا زیادہ کام لیگا طاقت اتنی ہی زیادہ بڑھتی جائے گی۔دوسری بات جو قرآن سے معلوم ہوتی ہے وہ ایک عام قاعدہ ہے اور ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ”کند ہم جنس یا ہم جنس پرواز جو ہم جنس ہو جاتے ہیں ان کو آپس میں تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔اس قاعدہ کے ماتحت جو لوگ ملائکہ کی طرح ہو جاتے ہیں ان کے لئے ملائکہ کے فیوض بھی بڑھتے جاتے ہیں۔ملائکہ کی صفت خدا تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی ہے کہ لَا يَعْصُونَ اللهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (التحریم : ۷ ) وہ خدا کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے۔جو حکم بھی انہیں ملتا ہے اسے بجالاتے ہیں۔جب کوئی شخص اسی صفت کو اپنے اندر پیدا کر لیتا ہے تو اس کے ساتھ ملائکہ کا تعلق ہو جاتا ہے۔کوئی کہے یہ تو بڑے لوگوں کا کام ہے چھوٹے درجہ کے لوگ کیا کریں لیکن ایسے لوگوں کے لئے بھی کچھ ذرائع ہیں۔ان ذرائع کو بیان کرتے ہوئے میں سب سے پہلے اس ذریعہ کو لیتا ہوں جو حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے۔پہلا ذریعہ جو حضرت صاحب نے فرمایا ہے وہ یہ ہے کہ جس انسان پر جبرائیل نازل ہو اس کے پاس بیٹھنے سے یہ بات حاصل ہو جاتی ہے کیونکہ اس کی آنکھوں سے،اس کے ہاتھوں سے، اس کے ناک سے، اس کے منہ سے ، غرض کہ اس کے جسم کے ہر ذرے سے ایسی نورانی شعاعیں نکلتی ہیں جو قلوب پر اثر کرتی ہیں اور اس طرح ملک انسان پر بالواسطہ نازل ہوتا رہتا ہے۔قرآن کریم سے اس کے متعلق اس طرح استدلال ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔كُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹) صادقوں کے ساتھ مل جاؤ۔اس کا یہی مطلب ہے کہ صادقوں سے ایسا تعلق پیدا کرو کہ جبرائیل کا جو اثر ان پر ہوتا ہے