ملائکۃ اللہ — Page 5
ملائكة الله مسئلہ وہ ہے کہ باوجود ایمانیات میں سے ہونے کے اس کی طرف لوگوں کو توجہ نہیں۔تقدیر تو ایسا مشہور لفظ ہے کہ جہاں کسی کو نقصان ہوایا فائدہ پہنچا اس نے کہہ دیا تقدیر سے ہوا ہے اور چونکہ اس تقریر میں بار بار تقدیر کا لفظ آتا تھا اس لئے اس کی طرف توجہ رہتی تھی اور چونکہ بالعموم لوگ سوال کرتے ہیں کہ تقدیر کیا ہوتی ہے؟ اس لئے بھی اس کے متعلق جو کچھ کہا گیا اسے توجہ سے سننے کی خواہش ہوتی تھی اور چونکہ تقدیر ہر روز سامنے آتی ہے اس لئے بھی اس کی طرف خیال رہتا تھا۔مگر یہ مضمون جو آج بیان ہوگا اگر چہ ایمانیات میں شامل ہے لیکن بار بار انسان کے سامنے نہیں آتا اور لوگ جانتے ہی نہیں اور سمجھتے ہی نہیں کہ اسے ایمانیات میں کیوں داخل کیا گیا ہے؟ اس لئے اس کی طرف خاص توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ مسئلہ ملائکہ کا وجود ہے۔ملائکہ پر ایمان لانا ایمانیات میں داخل ہے ملائکہ کوخدا تعالیٰ نے ایمانیات میں شامل کیا ہے اور جو شخص ملائکہ پر ایمان نہیں لاتا وہ اسلامی نقطۂ خیال سے چاہے کتابوں پر ، رسولوں پر اور آخرت پر ایمان لائے تو بھی مسلمان نہیں ہو سکتا ، کافر ہی رہے گا۔اور جس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرنے والا کافر ہوگا اسی طرح جبرائیل کا منکر بھی کافر ہوگا۔اور جس طرح خدا تعالیٰ کی کتابوں کا انکار کرنے والا کا فر ہو گا اسی طرح ملائکہ کا انکار کرنے والا بھی کافر ہوگا اور جس طرح حشر و نشر پر ایمان نہ لانے والا کافر ہو گا اسی طرح فرشتوں کو نہ ماننے والا بھی کا فر ہوگا۔مگر افسوس کہ مسلمانوں نے ملائکہ کی طرف بہت کم توجہ کی ہے۔ملائکہ کیا ہوتے ہیں؟ ان کا وجود کیوں منوایا گیا ہے؟ ان کے ماننے سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟ اس کو نہیں جانتے۔رسول کریم