ملائکۃ اللہ — Page 93
۹۳ ملائكة الله تحریکیں زیادہ ہوتی ہیں یا بد۔اگر نیکی کی تحریکیں زیادہ ہوں تو سمجھ لے کہ خدا تعالیٰ کی طرف ملائکہ اس کا قدم بڑھا رہے ہیں۔پس بجائے اس کے کہ انسان اپنی نمازوں کو، اپنے روزوں کو ، اپنے چندوں کو دیکھے کہ ان میں میں نے کس قدر ترقی کی ہے، اسے یہ دیکھنا چاہئے کہ اس کے قلب میں کیا تحریکیں ہوتی ہیں۔اس کا قلب اسے زیادہ نماز ، زیادہ روزے اور زیادہ نیکی کرنے کا حکم دیتا ہے یا نہیں۔اگر قلب حکم نہیں دیتا تو سمجھ لے کہ جو کچھ کر رہا ہے وہ صرف ایک ابتدائی کوشش ہے یا عادت ہے یا ریاء ہے اور خدائی کام نہیں۔اگر نمازیں پانچ چھوڑ دس بھی پڑھتا ہے یعنی علاوہ فرائض کے پانچ وقت نوافل ادا کرتا ہے مگر اس کا قلب نماز سے متنفر ہے تو معلوم کر لے کہ ابھی وہ ایسے مقام پر نہیں پہنچا کہ ملائکہ کا اس سے تعلق قائم ہو جائے بلکہ ممکن ہے کہ ابھی وہ ابتدائی کوشش کے مقام پر بھی نہیں پہنچا بلکہ اس کا نفس رسما یا عادتا یار یاؤ اس سے نمازیں پڑھوا رہا ہے۔اور اگر اسے ابھی عمل کی توفیق نہیں ملی مگر اس کے دل میں نیک تحریکیں پیدا ہو رہی ہیں تو سمجھے کہ فرشتے اس سے تعلق پیدا کر رہے ہیں پس تم اپنی نمازوں ، روزوں وغیرہ سے اپنی حالت کا اندازہ نہ کرو بلکہ تمہارے دل میں جو کچھ ہو اس کو دیکھو۔جن قوموں کے دل خراب ہو جاتے ہیں وہ خواہ ظاہرہ طور پر کتنی ہی مضبوط ہوں گر پڑتی ہیں۔روس کو ہی دیکھ لو کتنی بڑی حکومت تھی لیکن حضرت مسیح موعود کی اس کے متعلق چونکہ پیشگوئی تھی اس لئے ان لوگوں کے دل خراب ہو گئے اور اس سے ساری سلطنت خراب ہو گئی۔حالانکہ ظاہری خرابی سے معا پہلے وہ ایک زبر دست حکومت سمجھی جا رہی تھی۔تو کسی انسان کو اپنے متعلق نمازوں، روزوں اور زکوۃ سے فیصلہ نہیں کرنا چاہئے کہ میں نے نیکی اور تقویٰ میں کس قدر ترقی کی ہے بلکہ اپنے قلب