ملائکۃ اللہ — Page 88
۸۸ ملائكة الله کیا حفاظت کر سکتے ہیں۔گو یہ بات غلط ہے کیونکہ چوری کا جو خیال پیدا ہوگا وہ کسی محرک سے ہی پیدا ہوگا اور محترک چیز باہر ہی ہو گی۔مگر یہ بھی ہوتا ہے کہ دوسروں کے بد خیالات کا بھی اثر ہوتا ہے۔ایک کے بُرے خیالات دوسرے کے دل پر اثر کر دیتے ہیں۔اور یہ اثر چھونے ، باتیں کرنے یا پاس بیٹھنے سے ہوتا ہے یہ بات علمی طور پر بھی ثابت ہے۔مسمریزم ایک علم ہے۔اس میں ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے۔سو گیا سو گیا۔اور اپنے دل میں خیال لاتا ہے کہ سو گیا۔جب زور سے یہ خیال اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے تو وہ شخص فی الواقع سو جاتا ہے۔پھر یہاں تک ہو جاتا ہے کہ اسے کہا جاتا ہے، لکڑی کی طرح سخت ہو جا تو وہ ایسا ہی ہو جاتا ہے۔اس وقت اگر اسے ایسی طرز پر لٹا کر کہ اس کی کمر کے نیچے کوئی سہارا نہ ہو۔اس پر بوجھ بھی رکھ دیا جائے تو اس کی کمر ٹیڑھی نہیں ہوگی۔اسی طرح اگر کہا جائے تو ہکی ہو گیا تو وہ بلی کی طرح میاؤں میاؤں کرنے لگ جائے گا یا اگر کہا جائے کہ گنا ہو گیا تو کتے کی طرح بھونکنے لگ جائے گا۔تو ایک شخص کے خیال کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔دنیا میں ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے لوگ موجود ہیں جن کا بُرا اثر اس ملک میں جہاں وہ رہتے ہیں اس شہر میں جہاں وہ بستے ہیں اس گاؤں میں جہاں وہ سکونت رکھتے ہیں پڑتا ہے اور ہر انسان اس کا تجربہ کر سکتا ہے کہ ایک شخص کے خیال کا اثر دوسروں پر پڑ رہا ہے۔حتی کہ بچے بھی اس اثر کو محسوس کرتے ہیں۔چنانچہ ایک بچہ کی آنکھیں بند کر کے کوئی چیز کہیں چھپا کر رکھ دیتے ہیں اور پھر سب خیال کرنے لگتے ہیں کہ وہ لڑکا اس طرف چلے جہاں وہ چیز رکھی ہوئی ہے تو وہ ادھر ہی چلا جاتا ہے اور اس چیز کے پاس پہنچ کر اسے اُٹھا لیتا ہے۔