ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 77

LL ملائكة الله ڈالتا ہے نہ کہ اپنی ذات سے۔اور واسطہ کبھی اعلیٰ ہوتا ہے اور کبھی ادنی۔اعلیٰ کی مثال تو شیشے کی ہے جس پر سورج کا عکس پڑے۔شیشہ اس چیز سے اعلیٰ ہوگا جس پر اس کے واسطہ سے عکس پڑے گا۔اور ادنیٰ کی مثال یہ ہے کہ بادشاہ چٹھی لکھ کر چپڑاسی کو دے کہ فلاں وزیر کو پہنچا دے وہ نہیں جانتا کہ چٹھی میں کیا ہے یا کیا نہیں ؟ اس کا کام پہنچادینا ہے۔یا مثلاً اس کے ہاتھ زبانی پیغام بھی کہلا بھیجے۔تب بھی وزیر جو کچھ اس سے کہے گا وہ پیغامبر سے اکمل مفہوم ہو گا۔اس مثال کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ کا پر تو جبرائیل کے ذریعہ نبی پر پڑے مگر جبرائیل کو معلوم ہی نہ ہو کہ کیا ہے؟ اس کا پتہ حدیث سے بھی لگتا ہے۔معراج کی حدیث میں آتا ہے کہ ایک مقام پر جا کر جبرائیل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا، آگے آپ ہی جائے میں نہیں جا سکتا۔تو جبرائیل کے ذریعہ جو کچھ پہنچایا گیا وہ ایسا ہے جیسا کہ کسی کو ایک پیغام دے کر کسی کے پاس بھیجا جائے جس میں سے کچھ تو وہ سمجھ لے اور کچھ ایسے اشارے ہوں جنہیں وہی سمجھ سکتا ہو جس کے پاس پیغام بھیجا گیا یا وہ سمجھ سکتا ہے جس نے پیغام بھیجا۔اسی طرح جبرائیل کو جو کچھ دیا گیا وہ لے تو گیا مگر اس میں ایسی باتیں بھی ہیں جنہیں خدا اور رسول ہی سمجھ سکتے ہیں۔یہ مثال تو ایسی ہے کہ جبرائیل جو کچھ لے گیا اسے وہ سمجھ نہ سکتا تھا۔اس کے علاوہ وہ حصہ جو جبرائیل سمجھ سکتا تھا اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے بڑھے ہوئے تھے۔اس کو مثال کے ذریعہ سمجھاتا ہوں۔دو آدمی بخار میں مبتلاء ہوں اور دونوں کو کونین دی جائے تو بسا اوقات ایک کو تو جھٹ اثر ہو جائے گا اور ایک کو دیر میں ہوگا۔ایسا کیوں ہوگا؟ ظاہر ہے کہ یہ فرق ان دونوں کی ذاتی قوتوں کی وجہ سے پڑے گا جس کے جسم میں