ملائکۃ اللہ — Page 78
ملائكة الله ایسے مادے ہوں گے کہ جو کونین پر غالب آجائیں اس پر کم اور دیر سے ہوگا اور جس کا جسم صاف ہو گا اس پر فوراً اثر ہو گا اور بخار اتر جائے گا۔یہ مثال تو دفع شر کی قوتوں کے اختلاف کی ہے۔جلب خیر میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔دو آدمی ایک ہی خوراک کھاتے ہیں ایک بہت موٹا اور مضبوط ہو جاتا ہے دوسرا اس قدر فائدہ نہیں اُٹھاتا۔گو بسا اوقات وہ پہلے سے غذاء مقدار میں بھی زیادہ کھا لیتا ہے اسی طرح وہ تعلیم جس کو دونوں یعنی جبرائیل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے اس میں بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم افضل تھے کیونکہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کے قومی کے مطابق اثر ڈالتی تھی اور حضرت جبرائیل پر ان کے قومی کے مطابق۔یہ بات اس طرح اور زیادہ آسانی کے ساتھ سمجھ میں آسکتی ہے کہ میں اس وقت یہ مضمون اُردو میں بیان کر رہا ہوں اور ہر شخص اسے سمجھ سکتا ہے مگر ہر ایک ایک جیسا نہیں سمجھ سکتا اور نہ ہر ایک پر ایک جیسا اثر ہوتا ہے۔پھر قلب کا اثر بھی بات پر جا پڑتا ہے۔دیکھو سورہ فاتحہ ہی ہے۔کوئی شخص اسے پڑھتا ہے تو اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں۔اور کوئی پڑھتا ہے تو اس کے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ جس کے قلب کے اندر رونے کا مادہ ہوتا ہے اور وہ مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے وہ اسے پڑھ کر سمجھتا ہے خدا ہی ہے جو میری مصیبت کو دور کر سکتا ہے اور اس سے اس کی چیخیں نکل جاتی ہیں لیکن دوسرا شخص جو کامیابیوں کو اپنے گرد و پیش پاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خدا ہی میری حفاظت کرنے والا ہے کون ہے جو مجھے تباہ کر سکے۔اس سے اس کے پڑھنے سے چہرہ پر بشاشت آجاتی ہے۔تو ایک ہی بات کا قلب کی حالت کے لحاظ سے مختلف اثر ہوتا ہے۔