ملائکۃ اللہ — Page 71
ملائكة الله یہی مطلب ہے کہ آگ کا فرشتہ آپ کا غلام تھا۔اور فَقَعُوا لَهُ سُجِدِينَ (الحجر:۳۰) کے بھی یہی معنی ہیں کہ آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس کے فرمانبردار اور غلام ہو جاؤ۔جب آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہو اتو آدم ثانی ( حضرت مسیح موعود ) جو آدم سے شان میں بڑھا ہوا تھا اس کے لئے کیوں یہ نہ کہا جاتا کہ آگ تمہاری غلام بلکہ تمہارے غلاموں کی غلام ہے۔اس مرتبہ کے انسان کے لئے فرشتہ کی حالت عبد کی سی ہوتی ہے اور اس کو اس سے علیحدہ ہونے اور اسے چھوڑنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ایک نوکر نوکری چھوڑ کر علیحدہ ہوسکتا ہے مگر فرشتہ علیحدہ نہیں ہوسکتا۔یہ انبیاء کا درجہ ہوتا ہے۔انہی درجوں کے مشابہ شیطان اور انسان کے تعلقات ہوتے ہیں۔شیطان سے تعلق والوں کا پہلا درجہ شیطانی کا ہوتا ہے۔جیسے کوئی سیدھے رستہ پر جا رہا ہوتا ہے اور شریر آدمی اسے کہہ دیتے ہیں کہ ادھر نہ جاؤ بلکہ ادھر جاؤ، یونہی تمسخر سے کہتے ہیں۔اگر کوئی ان کی بات مان لیتا ہے تو گمراہ ہو جاتا ہے۔اسی طرح شیطان ابتداء میں اسی طرح دھوکا دیتا ہے اور جب کوئی اس کے دھوکا میں آجاتا ہے تو اسے گمراہ کر دیتا ہے۔لیکن اس وقت اس کے ساتھ ملائکہ موجود ہوتے ہیں وہ سید ھے رستہ پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر جب کوئی بار بار شیطان کی بات ماننے لگتا ہے تو اس حالت سے اور زیادہ بری حالت میں چلا جاتا ہے اور شیطان کے ساتھ بار بار ملنے کی وجہ سے ان کا آپس میں دوستانہ تعلق ہو جاتا ہے۔جس کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَنُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِيئًا ( النساء: ٣٩)