ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 40

۴۰ ملائكة الله معاف کئے جائیں بلکہ دعائیں بھی کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ اپنے بندوں پر برکتیں نازل کرے۔استغفار کرنے کے تو یہ معنے ہیں کہ انسانوں سے جو غلطیاں ہوں ان کو ڈھانپ دیا جائے مگر وہ دعائیں کرتے ہیں کہ خدا اپنی رحمت نازل کرے۔چنانچہ آتا ہے:۔إِنَّ اللهَ وَمَلَئِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِي يَأْيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تسليما (الاحزاب: ۵۷) یہ فرشتے خدا کی رحمت کے ماتحت ہوتے ہیں جب کوئی شخص خدا کی راہ میں کام کرتا ہے تو ملائکہ اس پر خدا کی برکت نازل ہونے کی دُعائیں کرتے ہیں۔وہ خودتو برکت نہیں دے سکتے اس لئے خدا سے دُعائیں کرتے ہیں کہ فلاں پر برکت نازل کرے۔ان کا درود ایسا ہی ہوتا ہے جیسے ہمارا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوتا ہے کہ ہم خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی برکت نازل کرے۔اسی طرح وہ بھی درخواست کرتے ہیں کہ خدا یا اپنے اس بندے پر رحم کر۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم بھی دُعائیں کرو کیونکہ خدا اور ملائکہ بھی اس کام پر لگے ہوئے ہیں۔بارہواں کام ملائکہ میں سے بعض کا یہ ہے کہ وہ سوائے عبادت کے کچھ نہیں کرتے۔وہ محض عبادت ہی کر رہے ہیں اور کرتے چلے جائیں گے حتی کہ اس دُنیا کا خاتمہ ہو جائے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ساتوں آسمانوں پر ایک قدم یا ایک بالشت یا ایک ہتھیلی کے برابر بھی جگہ خالی نہیں سب جگہ فرشتے کھڑے عبادت کر رہے ہیں یا سجدہ میں ہیں یا رکوع میں ہیں۔جب قیامت کا دن آئے گا سب کہیں گے تو پاک ہے۔ہم نے تیری عبادت اس طرح نہیں کی جو حق تھا۔ہاں بس اتنا کہہ سکتے ہیں کہ ہم