ملائکۃ اللہ — Page 39
معاف کر دے۔۳۹ ملائكة الله میرا خیال ہے کہ خدا تعالیٰ نے دوزخ کو خالی کرنے کی یہ سبیل رکھی ہے۔خدا تعالیٰ فرشتوں کی دُعا کے نتیجہ میں آخر کہے گا کہ جاؤ میں سب کو چھوڑتا ہوں۔دسواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ وہ قوانین نیچر کی آخری علت ہیں اور دُنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، سب ملائکہ کے اثر کے ذریعہ سے ہو رہا ہے۔مثلاً بارش برستی ہے، ہوا چلتی ہے سورج کی شعائیں پہنچتی ہیں، زہر اثر کرتا ہے، تریاق اثر کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔یہ سب کچھ ملائکہ کے اثر کی وجہ سے ہورہا ہے اور کوئی چیز ایسی نہیں جو اُن کے اثر کے بغیر اثر کر سکتی ہو۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ زہر بجائے خود زہر نہیں ہے اور تریاق اپنی ذات میں تریاق نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس ملک کے ماتحت زہر ہے جب تک وہ زہر کو اجازت نہ دے وہ اثر نہیں کر سکتا ہے اور جس کے ماتحت تریاق ہے جب تک وہ حکم نہ دے تریاق اثر نہیں کر سکتا اور ہر چیز کے متعلق یہی بات ہے چنانچہ قرآن کریم میں مختلف مقامات پر ذکر آتا ہے کہ بارشیں برسانا، آندھیاں لانا اور دوسرے کئی کام ملائکہ کے سپر د ہیں۔یہ ایک لمبا سلسلہ ہے اور بیبیوں مثالیں اس قسم کی مل سکتی ہیں اور کھلی کھلی پندرہ ہیں مثالیں تو مل جاتی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ قانونِ قدرت کے مختلف شعبوں کو پورا کر رہے ہیں۔اگر چہ چند ایک مثالیں جو کھلی کھلی ہیں ان سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے لیکن اگر کوئی کہے کہ ان کی وجہ سے سب باتوں کے متعلق کس طرح قیاس کیا جاسکتا ہے؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ یہ قیاس يَحْمِلُونَ العَرش سے ہوسکتا ہے کہ ملائکہ ہی خدا کی سب صفات کو ظاہر کرتے ہیں۔گیارہواں کام ملائکہ کا یہ ہے کہ وہ استغفار ہی نہیں کرتے کہ لوگوں کے گناہ