ملائکۃ اللہ — Page 36
۳۶ ملائكة الله حدیثوں میں آتا ہے کہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور ذکر کیا ابو جہل نے مجھ پر ظلم کر رکھا ہے آپ انصاف کرائیں۔اس نے میرا اتنا روپیہ دینا ہے مگر دیتا نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ساتھ لے کر ابو جہل کے پاس گئے اور جا کر پوچھا کہ تم نے اس کا اتنا روپیہ دینا ہے۔اس نے کہا ہاں دینا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دے دو۔اس نے جھٹ نکال کر دے دیئے۔اس پر لوگوں نے ابو جہل کو شرمندہ کیا کہ یہ تم نے کیا کیا ؟ تم تو ہمیں کہا کرتے تھے کہ مسلمانوں کا مال کھا جانا جائز ہے۔پھر تم نے کیوں دے دیا ؟ اس نے کہا تمہیں کیا معلوم ہے مجھے اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ دومست اونٹ میرے سامنے کھڑے ہیں۔اگر میں نے ذرا انکار کیا تو وہ مجھے چیر ڈالیں گے۔دراصل یہ رُعب تھا جو فرشتہ اس کے قلب پر ڈال رہا تھا۔غرض ملائکہ کا یہ کام بھی ہے کہ رُعب ڈالتے ہیں۔پھر ملائکہ کا چھٹا کام یہ ہے کہ توحید الہی قائم کرتے ہیں۔یوں تو سارے ہی کام فرشتے کرتے ہیں مگر یہ خاص کام ہے جو ہر ایک فرشتہ کرتا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے:۔شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَئِكَةُ وَأَوْلُوا الْعِلْمِ قَائِماً بِالْقِسْطِ (آل عمران: ۱۹) خدا بھی اپنی توحید پر گواہی دیتا ہے اور ملائکہ بھی گواہی دیتے ہیں۔تو ملائکہ توحید کے ثبوت کے لئے اسباب مہیا کرتے ہیں۔على السيرة النبوية لابن هشام جلد ۱ صفحه ۲۵۹،۲۵۸ ناشر مكتبة توفيقية الازهر