ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page iv of 131

ملائکۃ اللہ — Page iv

بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ پیش لفظ ارکان ایمان کا دوسرا اہم رکن ملائکتہ اللہ پر ایمان لانا ہے۔ملائکتہ اللہ کا مضمون نہایت باریک و دقیق ہے۔اور اس کا صحیح فہم و ادراک نہ ہونے کے نتیجہ میں دنیا کی مختلف اقوام و مذاہب شرک میں مبتلا ہیں۔ملائکہ کا وجود باوجود اس کے کہ ایمانیات اور اسلام کے بنیادی اصول میں شامل ہے مسلمانوں کو بھی اس کی حقیقت معلوم کرنے کی طرف بہت کم توجہ رہتی ہے۔سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمدخلیفة اسم الثاني لمصلح الموعودرضی اللہ علی عنہ نے ۲۸ ، ۲۹ دسمبر ۱۹۲۰ء کو جلسہ سالانہ قادیان کے بابرکت موقعہ پر ملائکتہ اللہ کے موضوع پر معارف و حقائق سماوی سے بھر پور روح پرور تقریر ارشاد فرمائی جس کو کتابی شکل میں شائع کرنے کی نظارت نشر و اشاعت قادیان کو توفیق مل رہی ہے۔حضور نے اس بار یک و دقیق موضوع پر نہایت سلیس اور بصیرت افروز انداز میں روشنی ڈالی ہے۔اپنی اس تقریر میں حضور نے قرآن کریم کی رو سے ملائکۃ اللہ کی حقیقت وضرورت، ان کی اقسام، ان کے فرائض و خدمات کے علاوہ فرشتوں کے وجود پر دلائل اور اُن سے متعلق شبہات و اعتراضات اور وہموں اور غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے مفصل و مدلل جوابات پیش فرمائے ہیں۔سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی اجازت و منظوری سے نظارت نشر و اشاعت قادیان اس معرکۃ الآرا تقریر کو پہلی بار کمپوز کروا کر کتابی شکل میں افادہ عام کے لئے شائع کر رہی ہے۔الحمد للہ