ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 31

ملائكة الله کہا کہ خدا نے پہاڑ کے فرشتے کو حکم دیا ہے کہ آپ کی مدد کرے۔اپنے متعلق نہیں کہا کہ میں مدد کے لئے آیا ہوں۔اس سے ظاہر ہے کہ پہاڑ کا فرشتہ الگ تھا اور الگ الگ چیزوں کے علیحدہ علیحدہ فرشتے مقرر ہوتے ہیں۔چودھویں بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ ملائکہ مختلف صفات الہیہ کے مظہر ہوتے ہیں۔بعض کسی ایک طاقت کے اور بعض ایک سے زیادہ طاقتوں کے مظہر ہوتے ہیں۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: الْحَمْدُ لِلهِ فَاطِرِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا أُولَىٰ أَجْنِحَةٍ مِّقْلَى وَثُلَثَ وَرُبَعَ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (فاطر 2) سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو اور جو فرشتوں کو رسول بنا کر بھیجتا ہے۔جن میں سے بعض دو بعض تین اور بعض چار صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور اللہ ان میں زیادتی بھی کرتا ہے جتنی چاہتا ہے۔اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس آیت سے یہ بات معلوم ہوئی کہ مختلف فرشتے مختلف صفات کے مظہر ہوتے ہیں اور کوئی تھوڑی صفات کے اور کوئی زیادہ صفات کے۔اور یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس زمانہ کے لئے جتنی ضرورت ہوتی ہے اتنی ہی استعداد کے فرشتے بھیجے جاتے ہیں۔انہی فرشتوں کو لوگوں کے پاس بھیجا جاتا رہا جن میں ان لوگوں کے مطابق استعداد ہوتی تھی۔اور جب دنیا پورے درجہ تک پہنچ گئی تو اس وقت خدا تعالیٰ نے جبرائیل کو اپنی کامل صورت میں بھیجا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اس کے چھ سو پر ہیں جو کامل کتاب لے کر آیا اس سے معلوم ہوا کہ جبرائیل خدا کی چھ سو صفات کے مظہر ہیں۔بخاری کتاب التفسير - سورة النجم باب قوله فاوحی الی عبده ما اوحی