ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 15 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 15

۱۵ ملائكة الله ایک کشف ہے کہ آپ نے خدا سے ایک لاکھ فرشتے مانگے ہیں اور خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے پانچ ہزار کافی ہیں ایک لاکھ زیادہ ہیں ( تذکرہ صفحہ ۱۷۸ ایڈیشن چہارم) چونکہ قرآن میں زیادہ سے زیادہ پانچ ہزار فرشتوں کا ذکر آیا ہے اس لئے اتنے ہی دیئے گئے ان سے زیادہ نہ دیئے گئے۔غرض یہ بات بھی سچی نکلی۔زرتشتیوں میں فرشتوں کے اعمال کے متعلق بڑی تفصیلیں آتی ہیں۔گو انہوں نے ٹھوکریں بھی کھائی ہیں مگر ان کی کتابوں میں ایسے مضامین پائے جاتے ہیں کہ کہا جاسکتا ہے کہ اگر اسلام کو چھوڑ کرکسی مذہب نے ملائکہ کا بیان کیا ہے تو وہ زرتشتی مذہب ہی ہے۔یہودی مذہب میں ملائکہ کا ذکر پھر یہودیوں میں بھی ملائکہ کی تعلیم پائی جاتی ہے۔وہ جبرائیل کو آگ کا فرشتہ کہتے ہیں مگر ان کو غلطی لگی ہے۔کیونکہ یہی نام زرتشتیوں میں پایا جاتا ہے مگر وہ اسے کلام لانے والا فرشتہ کہتے ہیں۔چونکہ یہ نام ان میں پہلے کا پایا جاتا تھا اور یہودیوں میں بعد میں آیا ہے اور ان کی ایران سے جلا وطنی کے بعد آیا ہے اس لئے چونکہ جن یہودیوں سے یہ نام لیا ہے ان میں اس کو رحمت کا فرشتہ اور کلام لانے والا مانا جاتا ہے اس لئے آگ کا فرشتہ کہنا غلط ہے۔پھر بائیل میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اسے رحمت کا فرشتہ قرار دیا گیا ہے۔طالمود میں آتا ہے کہ دانیال نبی کے زمانہ میں جن لوگوں کو آگ میں ڈالا گیا تھا ان کو بچانے والا جبرائیل ہی تھا۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب حضرت ابراہیم کو لوگ آگ میں ڈالنے لگے تو جبرائیل نے عا تذکرہ میں فرشتے کی بجائے فوج کا لفظ ہے۔