ملائکۃ اللہ — Page 13
ملائكة الله و ہشتا ما ناح بھی کہتے ہیں۔یعنی سب سے بہتر فرشتہ۔دوہو ماناح کے معنے نیک دل یا اصلاح کرنے والے فرشتہ کے ہیں۔اور عبرانی اور عربی میں جبر کے معنے بھی اصلاح کے ہیں۔پس دونوں ناموں کی مطابقت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہو ماناح درحقیقت جبرائیل کا ہی نام ہے۔زرتشتی کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ کو روشنی اس فرشتہ کی وساطت سے آتی ہے۔بلکہ زرتشت نے خدا تعالیٰ سے دُعا کی تھی کہ نور اور الہام کی روشنی سے وہ و وہو ماناح کو دیکھے اور آخر وہ فرشتہ اسے ملا۔تمام نیک تحریکیں اس فرشتہ کی طرف سے آتی ہیں اور جو لوگ اس فرشتہ کی تحریکات کو قبول نہیں کرتے یہ فرشتہ ان کو چھوڑ دیتا ہے۔دوسرا فرشتہ زرتشتیوں کے نزدیک آشنا ہے۔یعنی تقویٰ کا فرشتہ ہے۔ظاہری اشیاء میں سے آگ آشا کے سپر د ہے کیونکہ ٹور آگ سے پیدا ہوتا ہے اور تقویٰ نور سے پیدا ہوتا ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرشتہ میکائیل ہے کیونکہ میکائیل دنیاوی ترقی کا فرشتہ ہے اور دنیاوی ترقی کا نشان آگ ہے۔ان دونوں فرشتوں کے علاوہ پانچ بڑے فرشتے اور مانتے ہیں اور چھوٹے فرشتوں کا تو کچھ شمار ہی نہیں۔اور بڑے فرشتوں کے سپر د تمام انتظام ہے اور ان کا خیال ہے کہ فرشتے ہمیشہ انسان کے دل پر نیک اثر ڈالتے ہیں تا کہ شیطان اس میں نہ گھس سکے۔اور کہتے ہیں پیدائش خدا کی طرف سے ہے اور موت شیطان کی طرف سے۔اس وجہ سے وہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ چونکہ پیدائش خدا کی طرف سے ہوتی ہے اس لئے انسان نیک ہی پیدا ہوتا ہے اور فرشتے اس کی حفاظت کرتے ہیں مگر شیطان اس کو بُرائی سکھاتا ہے۔اگر انسان اس کی بات مان لے تو فرشتے اسے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں کہ اب