ملائکۃ اللہ — Page 98
۹۸ ملائكة الله کوشش کرتے ہیں انہیں ہم مختلف رستے دکھاتے ہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ نیکی کے بھی مختلف رستے ہیں۔دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت میں جو ایک رستہ اور کئی رستے بتائے گئے ہیں اس سے یہ بات بتائی ہے کہ خدا تک پہنچنے کے لئے کئی مذاہب قبول کرنے کی ضرورت نہیں۔صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس کے قبول کرنے سے انسان خدا تک پہنچ سکتا ہے۔ہاں آگے اسلام نے روحانی ترقیوں کے لاتعداد رستے بتائے ہیں۔تو اس آیت میں نفی اس بات کی کی گئی ہے کہ جس طرح شیطان نے گمراہ کرنے کے کئی رستے رکھے ہوئے ہیں۔کہیں عیسائی بنے کی تحریک کرتا ہے، کہیں آریہ بنے کی کہیں کوئی اور جھوٹا مذہب قبول کرنے کی۔اس طرح خدا نے نہیں کیا بلکہ خدا نے ایک مذہب رکھا ہے ہاں وہ مذہب ایسا ہے جو کئی رستوں پر حاوی ہے۔اسی بات کو نہ سمجھنے کی وجہ سے صوفیاء نے غلطی کھائی ہے۔اصل میں خدا تعالیٰ کی رحمت بہت وسیع ہے شیطان کے گمراہ کن طریقوں سے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے رحمتي وَسِعَتْ كُلّ شَيْءٍ (الاعراف: ۱۵۷) کہ میری رحمت ہر چیز کو گھیرے ہوئے ہے۔اب میں اس سوال کی طرف آتا ہوں کہ اگر نیکی کی تحریک کے بھی زیادہ ذرائع ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ دنیا میں شیطانی انسان زیادہ ہوتے ہیں اور دوسرے کم۔اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شیطانی اثر ملائکہ کے اثرات کی نسبت زیادہ ہیں۔اس کے متعلق یاد رکھنا چاہئے کہ شیطانی اور ملائکہ کی تحریکات کا مقابلہ اس طرح نہیں کرنا چاہئے کہ بڑے لوگ زیادہ ہوتے ہیں یا نیک بلکہ اس طرح کرنا چاہئے کہ ہر انسان کے اندر نیکی کی تحریک زیادہ ہوتی ہے یا برائی کی۔اس بات کو دیکھنے سے معلوم ہو