ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 97

۹۷ ملائكة الله ہے۔قانونِ قدرت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر خیالات بیرونی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کے دل میں چوری کا خیال اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ کوئی چیز باہر دیکھتا ہے اسی طرح اور باتوں کے متعلق ہوتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن ذرائع سے انسان کے اندر بُرے خیالات کی تحریک جاتی ہے انہی ذرائع سے نیکی کے خیالات کی تحریک بھی جاتی ہے۔مثلاً جہاں دیکھنے سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں مال چرا لیا جائے وہاں دیکھنے سے ہی یہ بھی خیال پیدا ہوتا ہے کہ فلاں غریب ہے اس کی مدد کی جائے۔اسی طرح جہاں کان کے ذریعہ ایک بات سُن کر برا خیال پیدا ہوسکتا ہے وہاں کان ہی کے ذریعہ نیک خیال بھی پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح چھونے ، دیکھنے اور چکھنے سے ہوتا ہے۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر چیز ایسی ہے کہ بدطور پر بھی استعمال کی جاسکتی ہے اور نیک طور پر بھی۔اس لئے جن ذرائع سے شیطان اندر داخل ہوسکتا ہے انہی ذرائع سے فرشتے داخل ہو کر نیکی کی تحریک بھی کرتے ہیں۔پھر قرآن کریم سے بھی یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے کہ شیطان کے گمراہ کرنے کے تو بہت سے راستے ہیں لیکن ملائکہ کا ایک ہی راستہ ہے۔ان کو دھوکا اس آیت سے لگا ہے کہ وَانَّ هَذَا صِرَاطِيْ مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سبيله (الانعام : ۱۵۴) خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہ میرا سیدھا رستہ ہے اس کی اتباع کرو اور مختلف رستوں کی اتباع نہ کرو۔وہ تمہیں کہیں کا کہیں پہنچا دیں گے۔اس سے معلوم ہؤا کہ خدا کا ایک ہی رستہ ہے اور شیطان کے کئی رستے ہیں مگر اس آیت کے معنے سمجھنے میں انہیں غلطی لگی ہے۔اول تو قرآن کریم میں ہی خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاط (العنكبوت ۷۰ ) کہ جو لوگ ہمارے رستہ میں