ملائکۃ اللہ — Page 96
۹۶ ملائكة الله درجے ہیں جن میں لمعہ ملکی اور لمہ شیطانی سے انسان کا واسطہ پڑتا ہے مگر لمہ ملکی غالب ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں : (۱) پہلے نیک خیال پیدا ہوتا ہو اور اس کے بعد بد خیال پیدا ہوتا ہو۔جب یہ حالت ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ گو فرشتے پورے طور پر اس کے اردگر د نہیں ہیں لیکن اصل تعلق فرشتوں کا ہے شیطان صرف ترقی روکنے کے لئے زور لگا رہا ہے۔(۲) دوسری حالت یہ ہے کہ نیک خیالات پہلے پیدا ہوں اور بد بعد میں مگر بد خیالات بہت کم پیدا ہوں یا یہ کہ مختلف قسم کی نیک تحریکوں میں سے بعض کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوں بعض کے متعلق نہیں۔اس حالت کے متعلق جان لینا چاہئے کہ فرشتوں کا تعلق مضبوط ہو رہا ہے اور شیطان کا کم۔اور کوئی دروازہ اس کے لئے کھلا رہ گیا ہے۔جب اس سے اوپر انسان ترقی کرتا ہے تو پھر شیطانی حملہ سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔ان پانچوں ذریعوں سے پتہ لگ سکتا ہے کہ انسان بدی میں بڑھ رہا ہے یا نیکی میں ترقی کر رہا ہے۔اب یہ سوال ہوتا ہے کہ انسان کے اندر کون سی تحریک زیادہ زبردست ہے آیا ملکی تحریک یا شیطانی؟ اور انسان کے لئے کون سے راستے زیادہ کھلے ہیں؟ ملائکہ کے رستے یا شیطان کے۔اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے انسانی ترقی کے زیادہ سامان رکھے ہیں یا گمراہی کے؟ صوفیاء سے ایک غلطی ہوئی ہے۔یا یوں کہنا چاہئے کہ ان سے ٹیکنیکل یعنی اصطلاحی غلطی ہوئی ہے حقیقی غلطی نہیں اور وہ یہ کہ ایک چیز کا مفہوم سمجھنے میں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔عام طور پر بلکہ سارے کے سارے لکھتے ہیں کہ فرشتہ کا ایک ہی رستہ ہے اور شیطان کے انسان کے اندر داخل ہونے کے کئی دروازے ہیں، مگر یہ غلط ہے۔اوّل تو قانونِ قدرت سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔پھر قرآن کریم کی رو سے بھی غلط