ملائکۃ اللہ

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 95 of 131

ملائکۃ اللہ — Page 95

۹۵ ملائكة الله بنسبت شیطان کے۔مثلاً تم نماز پڑھنے کے لئے آئے ہو مگر تمہارے دل میں وسوسے پڑتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ملائکہ کا تم سے زیادہ تعلق ہے۔تم نیکی کرنے آتے ہو اور شیطان اسے خراب کرنے لگتا ہے۔دوم۔اگر تم دیکھو کہ جب کوئی برا خیال تمہارے دل میں پیدا ہوتا ہے تو جھٹ ساتھ ہی نیک خیال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد میں چلولوگ دیکھیں گے کہ میں بھی نماز پڑھتا ہوں اور بعد میں یہ خیال آجاتا ہے کہ نماز پڑھنی ہے تو پھر اللہ ہی کی پڑھوں گا۔تو ایسی صورت میں سمجھ لو کہ ملائکہ کا تعلق تم سے زیادہ نہیں مگر پھر بھی ملائکہ نے تم کو بالکل چھوڑ بھی نہیں دیا۔جب انہوں نے موقع دیکھا جھٹ آجاتے ہیں تا کہ نیکی کی طرف لے آئیں۔اس حد تک انسان محفوظ ہوتا ہے کیونکہ ملائکہ نے اس سے محبت کا تعلق ترک نہیں کیا ہوتا۔پہلا درجہ تو یہ تھا کہ وہ اسے اوپر اُٹھاتے تھے اور شیطان نیچے کھینچتا تھا۔دوسرا یہ کہ وہ ڈوبنے لگتا تھا تو ملائکہ اسے بچاتے تھے۔جو انسان اس حالت میں ہو وہ بھی سمجھ لے کہ وہ ایسے مقام پر ہے کہ ترقی کر سکتا ہے مایوسی کی حد تک نہیں پہنچا۔سوم۔تیسرا درجہ نہایت نازک ہے اور وہ یہ ہے کہ تم محسوس کرو کہ بدی کی تحریک ہوتی ہے مگر ساتھ اس کے نیکی کی تحریک نہیں ہوتی۔گھنٹہ پر گھنٹہ اور دن پر دن گزرتا جاتا ہے مگر دل میں اس تحریک کے خلاف جوش نہیں پیدا ہوتا۔اگر یہ حالت ہے تو سمجھ لو کہ تم کو ملائکہ بالکل چھوڑ گئے ہیں اور تم بالکل شیطان کے قبضہ میں پڑ گئے ہو۔یہ تین درجے تو وہ ہیں جن میں بدی کی تحریک نیکی کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں سے ایک درجہ پر قائم شخص کو بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ان سے اوپر دو اور