مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 52
پوشیدہ کرتا تھا۔مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ بہت گنہگار ہوں کیونکہ میرے اقوال وافعال اہل تشیع کے تقیہ کرنے کی طرح تھے۔اس کے علاوہ میرے بعض دشمن جو کہ بہت شدید مخالف ہیں اس ملک کے حاکموں کو اطلاع دی ہے کہ یہ شخص اُس شخص کے متبعین میں سے ہے جو اپنے آپ کو مسیح موعود اور مہدی کہتا ہے اور شہید مرحوم کے شاگردوںمیں سے ہے اور اسے قید کرنا چاہئے اور اپنے استاد کی مانند پتھراؤ (رجم) ہونا چاہئے۔کیونکہ اس کے کفر میں کوئی شک نہیں ہے اور اُنہوں نے یہ منظور کر لیا تھا نیزاُن کے کہنے کے مطابق اُنہوں نے ارادہ کر لیا تھا لیکن محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ رہا اور اس جگہ پہنچ گیاہوں کیونکہ میرے دل نے فتویٰ دیا کہ اِن حالات میں ہجرت کرنی چاہیے۔والدین کی اطاعت مجھ پر لازم نہیں اور اس جگہ میں نے پکا ارادہ کر لیا کہ واپس نہیں جاؤں گا۔ہجرت اختیار کر لی۔اپنے اہل خانہ اورمال واسباب کو خالصۃً لِلّٰہ چھوڑ دیا۔اب اگر جاؤں ہجرت بھی ٹوٹ جاتی ہے اور اسی طرح بہشتی مقبرہ کے بارہ میں میں نے وصیت کی ہوئی ہے اور اُس میں دفن ہونے سے بھی محروم ہو جاؤں گا کیونکہ دوبارہ نہیں آسکوں گا اس لئے کہ جس وقت بھی میں آتاہوں میرے والد صاحب ناراض ہوجاتے ہیں حالانکہ مخالف بھی نہیں ہیں اور چٹھی کے ذریعہ بیعت میں بھی داخل ہوئے ہیں اور میں اپنی اس تحریر پر مولوی عبدالستار صاحب اور سید احمد نور صاحب دونوں کو بطور گواہ پیش کرتاہوں۔الغرض میرے لئے بہت بڑا ابتلا پیش آیا ہے کیونکہ میں نے تجربہ کیا ہواہے کہ اُس وطن میں دُنیا پر دین مقدم نہیں ہو سکتا بلکہ ہرگز محفوظ نہیں رہ سکتا۔اگر اپنے دین کی حفاظت کرتا ہے تو اپنے آپ کو معرض ہلاکت میں ڈالتا ہے اور یہ میں اپنے حق میں یقینا محسوس کرتاہوں کیونکہ میں نے خود دیکھا اور تجربہ کیا ہے اور دوسری طرف والدین کی اطاعت کا حکم ہے اولاً اُمید رکھتا ہوں کہ حضرت اقدس دعا مرحمت فرمائیں گے کہ ہر ابتلا اور شر سے محفوظ رہوں۔دوم۔مذکورہ معاملہ میںفیصلہ کی درخواست کرتا ہوں۔اگرچہ دل میرا فتویٰ دیتا ہے کہ میں معذور ہوں اور اپنے والدین کی اطاعت مجھ پر لازم نہیں لیکن دین کا کام باریک تر ہے ،حضور اقدس کے حکم اور فیصلہ کے بغیر کوئی فتویٰ ا ور فیصلہ منظورومعتبر نہیں ہے۔العارض خاکسار غلام محمد افغان احمدی از قادیان