مکتوبات احمد (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 51 of 563

مکتوبات احمد (جلد پنجم) — Page 51

ترجمہ ازناشر بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الکَرِیْمِ بحضور جناب حضرت اقدس رسول اللہ و خلیفۃ اللہ مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ اما بعد، بندہ خاکسار کی عرض یہ ہے کہ میرے والد صاحب کی طرف سے خط آیا ہے۔اُس کی نقل میں نے اس خط کے پیچھے لکھ دی ہے لیکن اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ تم ضرور اپنے گھر آجاؤ اور اگر نہ آئے تو آخرت کے دن میں تم سے بیزارہو جائوں گا اور میرا دل تم سے ناراض ہے اور میرے خود بھی اس امر میں بہت سارے عذر ہیں پہلا یہ ہے کہ میں حضور حضرت اقدس سے دُور ہو جائوں گا اور یہ میرے دل میں قتل سے اور ہر مصیبت سے اور ہر گھاٹے سے بہت زیادہ محسوس ہوتا ہے اور پھر یہ کہ قرآن شریف کا سبق پڑھتا ہوں۔کچھ پڑھا ہے اور زیادہ باقی رہتا ہے اور اسی طرح حضرت اقدس کی کتب کا مطالعہ کرتا ہوں۔تھوڑا تھوڑا مطالعہ کیا ہے زیادہ باقی پڑا ہے اور یہ دونوں اُس ملک میں حاصل نہیں ہو سکتے۔میں محروم ہو جاؤں گا۔یہ بھی قتل سے بدتر اور شدید تر ہے اور یہ کہ میرے ملک میں جان کی ہلاکت کا خوف بھی ہے اور دین کی ہلاکت کا خوف بھی ہے اور دونوں کو میں نے خود بخود محسوس کر لیا ہے اور تجربہ کیا ہواہے جس طرح کہ صاحبِ نور مرحوم احمد نورکا بھائی اپنے ملک آیا تھا اُس کے پیچھے بہت سپاہی لگا دئیے گئے تھے لیکن بھاگ جانے کی وجہ سے جان بچ گئی وگرنہ قتل کر دیا جاتا اور میں خود اپنے ملک میں حضرت مسیح موعود ؑ کی مریدی کے سلسلہ میں صاحب نور مرحوم سے کم شہرت نہیں رکھتا بلکہ اُس سے بھی زیادہ مشہور ہوں اس لئے سابقہ زمانہ میں شہید عبدالرحمن کے ہمراہ یہاں آیا تھا اور بیعت میں داخل ہوا تھا اور میرے وطن میں لوگوں کو میرے حال کا بخوبی علم ہے اور اسی طرح میں نے اپنے حق میں یہ تجربہ کیا ہواہے اور محسوس کیا ہوا ہے کہ شہید مرحوم کی شہادت کے بعد اس ملک کے مولویوں نے میرے ساتھ بہت سارے جھگڑے کئے ہیںاس لئے کہ میں اُس ملک میں روز روشن کی طرح آشکار ہو چکا ہوں کہ یہ شہید مرحوم کے پیرو اور مریدوں میں سے ہے۔بہت سختیاں اور خوف میں نے اپنے اوپر برداشت کئے ہیں کیونکہ میرے والد صاحب نے بھی اُس وقت یہی کہا تھا کہ اگر تم چلے گئے تو میں تم سے ناراض ہوں گا۔لاچاری کے سبب میں دین کے کام کو